BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 June, 2005, 08:36 GMT 13:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ضمنی انتخاب، ایم ایم اے کی جیت

News image
سرحداسمبلی کا ایک منظر (فائل فوٹو)
متحدہ مجلس عمل کے امیدوار اور قائد حزب اختلاف مولانا فضل لرحمٰن کے بھائی مولانا لطف الرحمان غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈیرہ اسمٰعیل خان سے سرحد اسمبلی کی نشست پی ایف چھاسٹھ کے ضمنی انتخابات میں کامیاب قرار پائے ہیں۔

اس طرح ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان سے تعلق رکھنے والے تین ’مولانا برادران’ قومی اور صوبائی اسمبلیوں تک پہنچ چکے ہیں۔

اس سے قبل اکتوبر دو ہزار کے عام انتخابات میں کامیا بی کے بعد مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے بھائی مولانا عطاالرحمٰن قومی اسمبلی میں ڈیرہ اسمٰعیل خان اور ٹانک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

اب مولانا فضل الرحمٰن کے سوتیلے بھائی لطف الرحمٰن کی کامیابی سے ’مولانا برادران’ کی صوبائی اسمبلی تک بھی براہ راست رسائی ہوگئی ہے۔

مولانا لطف الرحمٰن کی انتخابی مہم کے دوران مولانا فضل الرحمٰن کے علاوہ وزیر اعلی سرحد اکرم خان دورانی سمیت اکثر صوبائی وزرا حلقے کا دورہ کر چکے ہیں اور سب نے حسب روایت ووٹروں سے ترقیاتی منصوبے کے بڑے بڑے وعدے کئے ہیں۔

مولانا لطف الرحمٰن دعوے کر رہے ہیں کہ صوبائی حکومت ان کے علاقے کے لئے پینتیس کڑوڑ روپے سے زائد رقم کے منصوبے منظور کئے جا چکے ہیں۔

ڈیرہ کی پروا تحصیل میں ضمنی انتخاب آزاد رکن اسمبلی سردار عنایت اللہ گنڈاپور کے انتقال کی وجہ سے ممکن ہوا۔

مولانا لطف الرحمٰن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کافی متحرک شخصیت ہیں اور علاقے میں تمام سیاسی ’لین دین‘ کے پیچھے وہی ہوتے ہیں۔ ان کی کامیابی کے بعد خیال ہے کہ انہیں صوبائی حکومت میں کوئی اہم وزارت بھی سونپی جاسکتی ہے۔

انہوں نے مجموعی طور پر نو ہزار سات سو ستتر ووٹ حاصل کئے اور آزاد امیدوار سردار اکرام اللہ خان اور مسلم لیگ (ق) کے سردار ثنا اللہ میاں خیل جیسے مضبوط مخالفین کو ہرایا۔ تاہم مولانا لطف الرحمٰن گزشتہ عام انتخابات میں اس حلقے سے شکست کھا چکے ہیں۔

ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران ایم ایم اے کے امیدوار کے خلاف مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین پر دھاندلی اور الیکشن کمیشن کے ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات پر پابندی کے حکم کی خلاف ورزی کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ تاہم صوبائی حکومت اس تنقید کو مسترد کرتی رہی ہے۔

ایک مزید نشست جیتنے سے متحدہ مجلس عمل نے صوبائی اسمبلی میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی ہے۔ اگرچہ اسے ایوان میں پہلے ہی اکثریت حاصل ہے لیکن اسمبلی میں اختلاف کو کم سے کم رکھنے میں انہیں اس کامیابی سے مدد ملے گی۔

سرحد کا جنوبی ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان صوبے کے پسسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہاں بسنے والوں کو توقع ہے کہ ضمنی انتخابات کی وجہ سے انہیں سرکاری توجہ ملنے کا ایک اور نادر موقع میسر آیا ہے۔

چھ دینی جماعتوں کے اتحاد کے لئے یہ جیت تسلی بخش ثابت ہوگی کہ اس نے مالاکنڈ کے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب کے بعد یہاں بھی اپنی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد