’بندروں کا روزگار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک زمانہ تھا کہ شہروں کی گلیوں میں مداری ڈگڈگی بجا کر بندر کو نچاتے تھے اور اس تفریح کے بدلے لوگ ان کو ایک دو روپے دے دیتے تھے مگر اب کئی لوگوں نے بندروں کو گداگر بنا دیا ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں کو جانے والی سڑکوں بالخصوص ڈیفنس، کلفٹن، آئی آئی چندریگر روڈ، صدر کے راستوں پر جگہ جگہ بندروں کے ذریعہ بھیک مانگی جارہی ہے اور بارہ سے چودہ برس کی عمر کے لڑکے بندروں کو گود میں اٹھائے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ بچے ان سڑکوں پر کھڑے رہتے ہیں جہاں چوراہا ہو اور سگنل لگا ہوا ہو۔ جیسے ہی سگنل کی بتی لال ہوتی ہے یہ کاروں کے سامنے آجاتے ہیں۔ کوئی بچوں پر تو کوئی بندروں پر ترس کھا کر دس بیس روپے دے دیتا ہے۔ سیالکوٹ سے آنے والے بارہ سالہ عطااللہ کاکہنا ہے کہ وہ گذشتہ ایک ماہ سے بندر کی مدد سے لوگوں سے خیرات لے رہا ہے۔ کبھی سو کبھی ڈیڑھ سو روپے یومیہ مل جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دوپہر بارہ بجے آتے ہیں اور رات کو بارہ بجے واپس گھر جاتے ہیں۔ ان سب لڑکوں نے تین تین ہزار روپے میں بندر خریدے ہیں۔ ملتان سے آنے والے جاوید کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ بندر صدر کی ایمپریس مارکیٹ سے قسطوں پر خریدا ہے جس کے پیسے اس کے والدین ادا کرتے ہیں۔ جاوید کا کہنا ہے کہ وہ غبارے بیچتا تھا۔ مگر اس میں بمشکل پچاس ساٹھ روپے ملتے تھے۔لیکن موجودہ کام میں اس کو زیادہ پیسے ملتے ہیں۔ اس نے کہا کہ لوگوں سے پیسے لینے میں اس کو کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔ پنجاب سے آنے والے چودہ سالہ فرحان کا کہنا تھا کہ یہ بندر اسے اس کے والد نے لے کر دیا ہے جو خود غبارے بیچتے ہیں۔ فرحان کا کہنا تھا کہ روزانہ بندر پر خرچہ دس سے پندرہ روپے ہے۔ ہم اس کو کیلے کھلاتے ہیں۔ ہمیں اگر کوئی کھانے کو دیتا ہے تو اس میں سے بھی بندر کو دیتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ سکول کیوں نہیں جاتے تو ان کا کہنا تھا کہ ’سکول جا کر کیا کروں گا؟۔ روزانہ ڈیڑھ سو سے دو سو روپے کماتا ہوں۔ سکول جاؤں گا تو وہاں سے پیسے تھوڑی ملیں گے۔‘ صرف بچے ہی نہیں کچھ بڑے بھی بندر کی مدد سے بھیک مانگتے ہیں۔ شون چورنگی پر مانگنے والے مستجاب کا کہنا تھا کہ وہ دن کو غبارے بیچتا ہے اور شام کو یہ کام کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی غلط کام نہیں ہے اور کئی لوگ یہ کام کر رہے ہیں۔ بندروں کے بڑی تعداد میں’روزگار سے لگ جانے‘ کی وجہ سے کراچی کی ایمپریس مارکیٹ میں بندروں کی کمی ہوگئی ہے۔ ایک دکاندار محمد علی کے پاس ایک ہی بندر تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بندر پشاور سے لائے جاتے ہیں جنہیں وہ ڈھائی سے تین ہزار تک میں بیچتے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ ہم بندر کے خریدار کو کارڈ لکھ کر دیتے ہیں کہ اس کا جب بھی شوق پورا ہو ہمیں واپس کر جائے ہم پانچ سو روپے کاٹ کر بقیہ رقم واپس کردیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||