BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 January, 2004, 07:10 GMT 12:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: چار ہزار گداگر نشہ کے عادی ہیں

گداگر ویلفیئر ہوم میں خوش نہیں ہیں۔

اعظم نشے کا عادی ہے لیکن جسمانی طور پر صحت مند ہے، ہیروئن کا نشہ پورا کرنے کے لیے مختلف طور طریقے اپنا کر بھیک مانگتا ہے۔ شہر کے مصروف ترین علاقے میں زمین پر لیٹ کر بلند آواز میں ’اللہ اللہ‘ پکار کر لوگوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے اور اوسطاً پانچ سے چھ سو روپے روزانہ کما لیتا ہے اور یہ ساری کمائی ہیروئن کے دھویں میں اڑا دیتا ہے۔

کو ئٹہ میں اس وقت کوئی پانچ ہزار کے لگ بھگ بھکاری ہیں جن میں سے چار ہزار ہیروئن کے نشے کے عادی افراد ہیں۔ پانچ سو کے لگ بھگ وہ بھکاری ہیں جنھوں نے اسے پیشہ بنا رکھا ہے۔ اس کے علاوہ بہت کم تعداد حقیقی گداگروں کی ہے جو مجبوری کے تحت لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں یا فٹ پاتھ پر خاموش بیٹھ کر اپنے نصیب کا انتطار کرتے رہتے ہیں۔

کوئٹہ کی ضلعی حکومت نے اب گداگروں کے خاتمے کے لیے ایک جدید طرز کا محتاج خانہ قائم کیا ہے جہاں بھکاریوں کو اچھے کپڑے، بہتر رہائش، ڈاکٹر اور ادویات کی مکمل سہولت کے علاوہ ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں۔ لیکن یہ بھکاری یہاں خوش نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیوی بچے گھر میں اکیلے ہیں اور یہ یہاں رہ کر کیا کریں گے۔

انھوں نے کہا ہے کہ وہ آئندہ بھیک نہیں مانگیں گے بس یہاں سے انھیں جانے دیا جائے۔ جب انھیں کہا گیا کہ ان کے بیوی بچوں کو بھی یہاں بلا لیتے ہیں تو انھوں نے اس کی مخالفت کی۔

ویلفیئر ہوم یا محتاج خانے کے مینیجر اکبر سیلاچی بتاتے ہیں کہ اب تک صرف ایک درجن بھکاریوں کو پکڑ کریہاں لایا گیا ہے۔ پولیس اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ کا عملہ شہر میں گھومتے ہیں اور بھکاریوں کو پکڑ کر لاتے ہیں۔ فی الحال نشے کے عادی افراد کو وہ نہیں پکڑ رہے کیونکہ ان کے نشے کی لت کو توڑنے کے لیے باقاعدہ طبی علاج کی ضرورت ہوتی ہے جس کی سہولت ان کے پاس دستیاب نہیں ہے۔

ایک ستر سالہ بھکاری نے کہا کہ اس کا ایک بیٹا ہیروئن کا عادی ہے باقی لڑکیاں ہیں اور گھر میں کمانے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ خود بھیک مانگ کر گزارہ کرتا ہے لیکن اب بجلی کا بل دو سو روپے آیا تھا۔ ’میرے پاس بل کے پیسے نہیں تھے بھیک مانگنے آیا تو انھوں نے پکڑ لیا۔‘

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایسے گداگروں کی مدد کی جا رہی ہے چونکہ ابھی یہ ابتدائی مراحل ہیں تو ان جیسے مسائل پر قابو پا لیا جا ئے گا۔

کوئٹہ میں موسمی بھکاریوں کی ایک بڑی تعداد ماہ مارچ کے بعد پہنچنا شروع ہوجاتی ہے۔ کوئٹہ کا موسم چونکہ گرمیوں میں قدرے خوشگوار ہوتا ہے اس کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی لوگ یہاں آجاتے ہیں تو یہ گداگر گرمیوں کا موسم کوئٹہ میں گزارتے ہیں اور روزانہ اچھی بھلی کمائی ہوجاتی ہے۔ رات کہیں فٹ پاتھ پر گزار دیتے ہیں یا ایک کھولی کرائے پر لے لیتے ہیں۔ اکثر بھکاری اپنے بیوی اور بچوں کو بھی ساتھ لے آتے ہیں اور پورا گھرانہ بھیک مانگ کر اچھی بھلی کمائی کر لیتا ہے۔

ضلعی ناظم کوئٹہ رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ یہ گداگر مختلف قسم کے جرائم میں بھی ملوث پائے گئے ہیں مختلف دھماکوں ملوث افراد انہی گدگر بچوں کے ذریعے بم نصب کراتے تھے ایک مرتبہ بم ایک گداگر بچے کے ہاتھ میں پھٹ گیا تھا انھوں نے کہا ہے کہ اکثر گھروں میں چوریوں اور ڈکیتیوں میں بھی یہ گداگر ملوث پائے گئے ہیں یہاں بھکاریوں کے بڑے بڑے گینگ ہیں جنھوں نے مختلف علاقے ٹھیکے پر لے رکھے ہیں اور یہ سمجھوتے ان بھکاریوں کے مابین ہوتے ہیں

غربت، بے روزگاری اور مہنگائی ایسے عوامل ہیں جو عام عادمی کو بھیک مانگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف محتاج خانے کھولنے سے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ غربت کے خاتمے روزگار فراہم کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہیں ورنہ ماضی کی طرح یہ محتاج خانے چند دنوں کے بعد بند ہو جائیں گے اور بھکاری پھر شہر کے گلی کوچوں میں بھیک مانگتے نظر آییں گے بلکہ اس مرتبہ ان گداگروں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد