بچوں سے بھیک منگوانے والے گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب میں بھکاری اور لاوارث بچوں کی فلاح و بہود کے سرکاری ادارے نے ایک تین رکنی گروہ کو اس الزام میں گرفتار کیا ہے کہ وہ بچوں کو اغوا کرکے بھیک مانگنے پر مجبور کرتا تھا۔ پولیس نے گروہ کے قبضے سے تین بچوں کو بھی بازیاب کر لیا ہے۔ پنجاب میں فلاح بہبود کے اس ادارے چائلد پروٹیکشن اینڈ ویلفئربیورو نے اپنے قیام کے چند ماہ میں چارسو سے زائد بچوں کو بازیاب کرایا ہے جن میں سے تین سو نوے بچے ان کے والدین اورورثا کے حوالے کردیے گئے ہیں جبکہ ایک سو دس بچے ابھی بھی اس ادارے میں موجود ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کی مشیر ڈاکٹر فائزہ اصغر نے منگل کو اپنے ادارے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ چند مہینے قبل جب یہ ادارہ قائم کیا گیا تھا تو اس وقت انہوں نے سرکاری خفیہ ایجنسی کی رپورٹ بھی حاصل کی تھی جس میں الیاس عرف انگلی کٹ،گلبرگ کے شفیق عرف مانا اور ریلوے سٹیشن کے کالا جواری کے نام تھے اور یہ بتایا گیا تھا کہ یہ لوگ بچوں کو اغوا کرکے ان سے جسمانی اور جنسی تشدد کرنے اور انہیں منشیات فروشی اور بھیک مانگنے جیسے برے کاموں پر مجبور کرنے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شفیق عرف مانا اور کالاجواری تو اپنے اپنے گروہ کے دیگر اراکین کے ہمراہ پہلے ہی گرفتار کیے جاچکے ہیں جبکہ الیاس عرف کالا انگلی کٹ کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیم کے ہمراہ پرسوں رات لاہور پریس کلب شملہ پہاڑی کے نزدیک واقع ایک چھوٹے پارک میں چھاپہ مارا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس گروہ کے اراکین بچوں کو مسلم ٹاؤن کے انڈر پاس کے نزیک نکاسی آب کے ایک بڑے خالی پائپ میں رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس گروہ کے لوگوں کی تصاویر جب انہوں نے اپنے ادارے کے ہاسٹل میں داخل ایک سو دس بچوں کو دکھائیں تو ان میں سے چودہ بچوں نے انہیں شناخت کر لیا۔ لاہور کے علاقے قینچی امرسدھو کے ایک بچے عمران نے بتایا کہ ملزم نے پہلے اسے بھائی بنانے کا جھانسہ دیا اور پھر جسنی تشدد کانشانہ بنایا اور پھر اسے بھیک مانگنے پر مجبورکر دیا گیا۔اسی طرح داروغہ والا لاہور کا رہائشی جاوید نہرپر نہانے گیا اور بردہ فروشوں کے ہاتھ چڑھ گیا۔ ڈاکٹر فائزہ اصغر نے بتایاکہ بردہ فروشوں کے گروہ بچوں کو نشہ پر لگا دیتےہیں۔ انہوں نے چوک یتیم خانہ لاہور کے رہائشی ایک بچے کو پیش کیا جس نے بتایا کہ اسے اغوا کے بعد چرس اور شراب کے نشے پر لگایا گیااور وہ نشے کی خاطر جرائم کرنے پر مجبور ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||