برنس روڈ کا لکھ پتی بھکاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اللہ کے نام پر پیسے دے دو، غریب کو بھیک دیدو۔ برنس روڈ کی محمدی مسجد میں نماز پڑھنے والے ہزاروں لوگ اللہ دتہ کی اس آواز سے آشنا تھے۔ اللہ دتہ کی یہ آواز ایک عرصے تک اس کو اسی کے نام کی بھیک دلواتی رہی اور بالآخر بھیک مانگنے والی آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی۔ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے اس بظاہر فقیر دکھائی دینے والے اللہ دتہ کی لاش آج بھی کراچی کے ایدھی سرد خانے میں رکھی ہے اور ان کے وارث کی تلاش جاری ہے۔ پاکستان جہاں عام آدمی کی سالانہ آمدنی چارسو اسی ڈالر ہے وہاں جب اللہ دتہ کے اثاثوں کی چھان بین ہوئی تو پولیس حیران رہ گئی کیونکہ اللہ دتہ کے اثاثوں کی مالیت تقریباً دس لاکھ روپے یعنی ساڑھے سترہ ہزار ڈالر سے زائد کی تھی۔ اس میں نقدی اور سیونگ سرٹیفیکٹ شامل ہیں۔ کراچی کے حبیب بینک سے جب معلوم کیا گیا کہ اس اکاؤنٹ کی تفصیلات بتائیں تو انہوں نے بینک کے قوانین کے مطابق اپنے کسی بھی اکاؤنٹ ہولڈر کی معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اللہ دتہ نیم بے ہوشی کے عالم میں پولیس کو ملا تھا اسی حالت میں چل بسا ۔ پولیس نے مزید بتایا کہ اکثر یہ اسی علاقے میں بھیک مانگتا تھا اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اکثر وہ عربی اور فارسی بولتے بھی نظر آتا تھا۔ کراچی ہمیشہ سے کاروباری مرکز رہا ہے جہاں لوگ بڑی تعداد میں ملازمت کرنے دور دراز شہروں سے آتے ہیں اسی وجہ سے یہاں بھیک مانگنے والوں کی بھی بڑی تعداد ہے جو دوسرے علاقوں کی نسبت اس شہر میں بھیک مانگنے کو فوقیت دیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر ان دس لاکھ روپوں کا ہوگا کیا؟ اللہ دیہ تو آخر وقت تک ان کو استعمال میں نہ لا سکا اور ایک ایک روپیہ مانگتے مر گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||