’جوہری پروگرام محفوظ ہاتھوں میں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان جوہری پھیلاؤ کا سخت مخالف ہے اور اس نے اپنے جوہری اثاثوں کی سخت حفاظت کے اقدامات کر رکھے ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے یہ بات سنیچر کے روز ایوان صدر میں جاپانی وزیراعظم جونی چیرو کوئی زومی سے ملاقات کے دوران کہی۔ جاپانی وزیراعظم بھارت کا دورہ مکمل کرنے کے بعد دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے ہیں۔ ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہنے والی خصوصی ملاقات میں صدر جنرل پرویز مشرف نے مہمان وزیراعظم کو جوہری عدم پھیلاؤ، بھارت کے ساتھ جاری مذاکرات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق کیے گئے حکومتی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔ سربراہان کی اِس ملاقات کے بعد پاکستان حکومت نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ جاپانی وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر پرامن طریقے سے حل کرنے کے عزم اور شدت پسندوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے پر پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔
ملاقات کے دوران حکام کے مطابق اقوام متحدہ میں ہونے والی اصلاحات کے بارے میں بھی تفصیلی بات چیت ہوئی اور پاکستان نے اپنے اصولی موقف سے مہمان وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ واضح رہے کہ دنیا کا دوسرا بڑا اقتصادی طاقتور ملک جاپان، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کرنے کا خواہاں ہے اور جاپانی وزیراعظم کے دورے کا ایک اہم مقصد پاکستان کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ پاکستان نے جاپان کو حمایت کا یقین دلایا ہے یا نہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے مہمان وزیراعظم کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ جاپانی وزیراعظم اپنے پاکستانی ہم منصب سے اقتصادی شعبے میں تعاون وسیع کرنے کے بارے میں باضابطہ مذاکرات سنیچر کی سہ پہر کو کر رہے ہیں اور شام چھ بجے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گے۔ قبل ازیں جاپان کے وزیراعظم کا اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر وزیر ثقافت محمد اجمل خان نے خیرمقدم کیا اور انہیں براہ راست وزیراعظم ہاؤس لایا گیا۔ جہاں وزیراعظم شوکت عزیز نے اپنے ہم منصب مہمان کا خیرمقدم کیا اور اپنی کابینہ کے اراکین اور فوجی حکام سے تعارف بھی کروایا۔ حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ جاپانی وزیراعظم کے دورے کے موقع پر فنی تعاون، تونسہ بیراج اور فیصل آباد میں پانی کو صاف کرنے کے بارے میں تین معاہدوں پر دستخط ہونے کی توقع ہے۔ سن دو ہزار میں سابق جاپانی وزیراعظم کے دورے کے بعد یہ کسی بھی جاپانی اعلیٰ اہلکار کا پہلا دورہِ پاکستان ہے۔ جاپانی وزیراعظم ین لون کی بحالی کا رسمی اعلان بھی کریں گے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان کو ہر سال تقریباً پچاس کروڑ ڈالر ملتے ہیں۔ یہ پروگرام سن اٹھانوے میں پاکستان کی جانب سے جوہری بم دھماکہ کرنے کے بعد اقتصادی پابندیاں عائد کرتے ہوئے معطل کر دیا گیا تھا۔ لیکن سن دو ہزار ایک میں جہاں عائد پابندیاں ختم کی گئیں وہاں تیس کروڑ ڈالر کی امداد بھی دی گئی تھی۔ جاپان نے سن انیس سو باون میں پاکستان سے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے اور اب تک امداد دینے والے اہم ممالک میں یہ ملک شامل ہے۔ جاپان نے پاکستان کے ذمے ساڑھے چار ارب ڈالر کا قرض واپس کرنے میں سہولت دیتے ہوئے ’ری شیڈول‘ کر رکھا ہے۔ ادھر دفتر خارجہ کے ترجمان نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان جاپانی وزیراعظم کو شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے بارے میں کچھ نئی معلومات دے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||