قاضی حمید 23 افراد کے ساتھ رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے متحدہ مجلس عمل گوجرانوالہ کے ضلعی امیر اور رکن قومی اسمبلی قاضی حمیداللہ سمیت ان چوبیس افراد کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے جنہیں تین ہفتے پہلے میراتھن ریس پر ہونے والے پر تشدد واقعات کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ تین اپریل کو پنجاب حکومت نے گوجرانوالہ میں ایک مخلوط میرا تھن ریس کرانے کا اعلان کیا تھا پاکستان کی چھ بڑی مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے اس کی مخالفت کی اور اسے اسلام اور مقامی کلچر کے خلاف قرار دیا۔ اس روز پرتشدد مظاہرے ہوئے اس دوران فائرنگ ہوئی توڑ پھوڑ ہوئی متعدد افراد زخمی ہوئے اور یہ میراتھن نہیں ہوسکی۔ پولیس نے اسی روز مقامی رکن قومی اسمبلی قاضی حمیداللہ اور ان کے صاحبزادے قاضی کفایت اللہ سمیت تینتالیس افراد کو گرفتار کر لیا اور ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ واضح رہے کہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے چند روز پہلے اس شرط پر سولہ اپریل کی لاہور سے گوجرانوالہ کی احتجاجی ریلی منسوخ کی تھی کہ مجلس عمل کے بقول انہیں وزیراعلی پنجاب نے انہیں یقین دلایا تھا کہ گوجرانوالہ میر اتھن ریس کے موقع پرگرفتار ہونے والے ایم ایم اے کے کارکنوں کو رہا کر دیا جائےگا لیکن پھراب سے دوروز پہلے مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے وعدہ شکنی کی ہے اور قاضی حمید اللہ کو رہا نہیں کیا انہوں نے وارننگ دی تھی کہ اگر قاضی حمید اللہ کو رہا نہ کیا گیا تو ایک دو روز میں مجلس عمل گوجرانوالہ سے لاہور تک احتجاجی جلوس نکالے گی۔ حکومت پنجاب نے صدر مشرف کی اعتدال پسند روشن خیال نظریہ کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں مخلوط میراتھن ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا لیکن گوجرانوالہ کے واقعہ کے بعد مختلف اضلاع میں یا تو میراتھن منسوخ کر دی گئی یا انہیں صرف مردوں کی دوڑ تک محدود کر دیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||