BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 April, 2005, 19:26 GMT 00:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قاضی حمید 23 افراد کے ساتھ رہا

مراتھن
لاہور میں ہونے والی مراتھن کا ایک منظر
پاکستانی پنجاب میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے متحدہ مجلس عمل گوجرانوالہ کے ضلعی امیر اور رکن قومی اسمبلی قاضی حمیداللہ سمیت ان چوبیس افراد کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے جنہیں تین ہفتے پہلے میراتھن ریس پر ہونے والے پر تشدد واقعات کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

تین اپریل کو پنجاب حکومت نے گوجرانوالہ میں ایک مخلوط میرا تھن ریس کرانے کا اعلان کیا تھا پاکستان کی چھ بڑی مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے اس کی مخالفت کی اور اسے اسلام اور مقامی کلچر کے خلاف قرار دیا۔

اس روز پرتشدد مظاہرے ہوئے اس دوران فائرنگ ہوئی توڑ پھوڑ ہوئی متعدد افراد زخمی ہوئے اور یہ میراتھن نہیں ہوسکی۔

پولیس نے اسی روز مقامی رکن قومی اسمبلی قاضی حمیداللہ اور ان کے صاحبزادے قاضی کفایت اللہ سمیت تینتالیس افراد کو گرفتار کر لیا اور ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
آج اس مقدمہ کی درخواست ضمانت کی سماعت تھی تمام ملزمان کو سخت حفاظتی انتظامات میں عدالت پیش کیا گیا تو سرکاری وکیل نے درخواست ضمانت کی مخالفت نہیں کی جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج مرزا رفیع الزمان نے قاضی حیمد اللہ ان کے صاحبزادے قاضی کفایت اللہ سمیت چھببیس افراد کی ضمانت منظور کر لی باقی سترہ ملزمان کی شناختی پریڈ سمیت دیگر قانونی کارروائیاں مکمل نہیں ہوئی تھیں اس لیے ان کی ضمانت نہیں ہو سکی۔

واضح رہے کہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے چند روز پہلے اس شرط پر سولہ اپریل کی لاہور سے گوجرانوالہ کی احتجاجی ریلی منسوخ کی تھی کہ مجلس عمل کے بقول انہیں وزیراعلی پنجاب نے انہیں یقین دلایا تھا کہ گوجرانوالہ میر اتھن ریس کے موقع پرگرفتار ہونے والے ایم ایم اے کے کارکنوں کو رہا کر دیا جائےگا لیکن پھراب سے دوروز پہلے مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے وعدہ شکنی کی ہے اور قاضی حمید اللہ کو رہا نہیں کیا انہوں نے وارننگ دی تھی کہ اگر قاضی حمید اللہ کو رہا نہ کیا گیا تو ایک دو روز میں مجلس عمل گوجرانوالہ سے لاہور تک احتجاجی جلوس نکالے گی۔
تاہم اب قاضی حمید اللہ کی ضمانت کی منظوری کے بعد مجلس عمل نے کارکنوں کی رہائی کی لیے ریلی نہ نکالنے کا عندیہ دیا ہے۔

حکومت پنجاب نے صدر مشرف کی اعتدال پسند روشن خیال نظریہ کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں مخلوط میراتھن ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا لیکن گوجرانوالہ کے واقعہ کے بعد مختلف اضلاع میں یا تو میراتھن منسوخ کر دی گئی یا انہیں صرف مردوں کی دوڑ تک محدود کر دیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد