فیصل آباد، نہ تو شہر نہ ہی گاؤں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں اگر آپ سے کہوں کہ فیصل آباد نہ شہر ہے اور نہ گاؤں تو آپ کو میری بات کا یقین کرنا ہوگا۔مانا کہ آپ نے صوبہ پنجاب کے اس صنعتی ضلع کو کئی بار دیکھا ہے اور آپ نے کبھی ایسا محسوس نہیں کیا تو میں کیا کروں مگر میں یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں کہ شہر اورگاؤں کے بیچ میں اسے کوئی اور نام دیا جا سکتا ہے۔ لاہور کے ہنگامے سے نکل کر جب آپ خوبصورت سے موٹر وے پر پہنچ کر دائیں بائیں نظر دوڑاتے ہیں تو تازہ ہوا کے جھونکے آپ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ سڑک کے دونوں طرف سر سبز کھلے کھلے میدان اور دور دور کہیں کہیں اکا دکا کچی مٹی کے بنے مکانے جن کی حثیت کا اندازہ لگانا بالکل مشکل نہیں، بس چند مال مویشی، گوبر کے سینکڑوں اُپلے کچی دیواروں پر چسپاں نظر آتے ہیں۔ ان کچی مٹی کے مکانوں میں ہنستے کھیلتے بہت سارے بچوں کی گونج جو لاہور والوں کی کوٹھیوں میں اب زیادہ سنائی نہیں دیتی۔ یہ منظر برابر آپ کو فیصل آباد کے مرکز تک نظر آئےگا اور پلک جھپکتے ہی آپ کے سامنے دھول، دھواں، شور ہنگامے اور مال مویشیوں سے بھر پور شہر ملے گا گھنٹہ گھر ایسا کہ فیصل آباد تک آنے والے تمام راستے وہیں پہنچ جاتے ہیں اور جس کسی راستے سے آپ کا گزر ہوگا بھول بھلیوں میں پھنس کر واپس گھنٹہ گھر پہنچ جائیں گے۔ کہتے ہیں کہ انگریزوں کے دور حکومت میں لائل براؤن نے اس شہر کو بسا کر اس کا نام لائل پور رکھا تھا اور گھنٹہ گھر چوک بنانے کا مقصد بھی شاید یہی تھا کہ مختصر آبادی کے لیے راستے تلاش کرنا مشکل نہ ہو۔ لیکن جب آبادی بڑھنے کی شرح نو فیصد سے زائد ہو تو وہاں آپ نہ تو اب راستے دیکھ سکتے ہیں اور نہ وہ تاریخی چوک جس کے سینے میں کئی راز دفن ہیں۔ چوک تک آنے والے تمام راستوں پر تل دھرنے کی جگہ نہیں لیکن کروڑوں روپے کا کاروبار اسی چوک میں ہوتا ہے اور فیصل آباد کی صعنتی ترقی کی ضامن نوے فیصد گاڑیاں یہیں سے گزرتی ہیں اور ساتھ ہی مزدور طبقے کی گدھے ریڑھیاں چوک کے سینے کو چیر کر بڑے فخریہ انداز میں کہتی ہیں ہم کسی سے کم نہیں۔ شہر کی صنعتی ترقی کا ثمر عام آدمی کو نہ پہنچا ہو مگر ترقی کی وجہ سے شہر کی حیات کئی بیماریوں میں مبتلا ہوچکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||