ہیلری کلنٹن پاکستان پہنچ گئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق امریکی صدر بل کلٹن کی اہلیہ اور امریکی سینیٹ کی رکن ہیلری کلنٹن ایک وفد کے ہمراہ پیر کو عراق سے پاکستان پہنچی ہیں اور انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی ہے۔ اس دورے کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ یہ ارکانِ سینیٹ کتنے دن پاکستان میں رہیں گے۔ ہیلری کلنٹن کے ہمراہ آنے والے ارکان سینیٹ میں ہیلری کی ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک رکن رسل فائن گولڈ جبکہ ریپبلکن پارٹی کے جان مک کین، سوسن کالنز اور لنڈسے گراہم شامل ہیں۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ارکان نے آج ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی ملاقات میں پاک بھارت تعلقات، عراق اور افغانستان سمیت دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر جنرل مشرف نے کہا کہ امریکہ کو جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے حل اور امن کے لئے موثر کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس سے قبل صرف تنازعات کو قابو میں کرنے کی پالیسی پر گامزن رہا ہے اور اب اسے تنازعات کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ امریکی ارکانِ سینیٹ نے پاک بھارت تعلقات میں بہتری کو خوش آئند قرار دیا۔ صدر مشرف نے کہا کہ وہ اس بارے میں پُرامید ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات بھی فریقین کی طرف سے اعتماد بڑھانے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ چلیں گے۔ امریکی ارکانِ سینیٹ نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف صدر مشرف کی پالیسیوں کو سراہا اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات مزید مضبوط کرنے کی کوششوں کی حمایت کی۔ صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیوں نے عالمی دہشت گرد نیٹ ورک کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||