BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 January, 2005, 00:18 GMT 05:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پرویز الٰہی کے قریبی ساتھی قتل

پنجاب میں مسلم لیگ کے کارکن
چودھری شوکت عباس مسلیم لیگ ہاؤس پر نواز شریف کے حامیوں کا قبضہ ختم ہونے کے بعد آئے تھے
حکمران مسلم لیگ پنجاب کے جوائنٹ سیکرٹری اور مسلم لیگ ہاؤس کے نگران چودھری شوکت عباس کو پراسرار حالات میں قتل کردیا گیا ہے۔ کسی تیز دھار آلے سے ان کے جسم کے کئی ٹکڑے کر دیے گئے اور مختلف حصوں میں تقسیم شدہ لاش ان کے گھر کے غسل خانہ سے برآمد ہوئی۔

رات گئے تک ملزمان کا سراغ لگایا نہیں جا سکا اور نہ ہی قتل کے محرکات کا تعین ہو سکا ہے۔

مقتول کا شمار وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی اور سابق وزیرِاعظم چودھری شجاعت کے قریبی ساتھی کارکنوں میں کیا جاتا تھا۔

چودھری شوکت عباس منگل کے روز خلاف معمول مسلم لیگ ہاؤس نہیں آئے تو ان کے ساتھی کارکنوں کو تشویش ہوئی اور وہ ان کی خیریت جاننے کے لیےکشمیر روڈ غازی آباد پر واقع ان کے گھر گئے لیکن طویل دستک کے باوجود مرکزی گیٹ نہ کھلا تو رات ساڑھے دس بجے پولیس کی موجودگی میں دروازہ کھلوایا گیا۔

ایس ایچ او غازی آباد نے بتایا کہ ان کی لاش غسل خانے میں پڑی تھی ان کی دونوں ٹانگیں گھٹنوں سے کاٹ کر الگ کر دی گئی تھیں جبکہ دونوں بازو کندھوں کے جوڑوں کے پاس سے اور سر گردن کے پاس سے اگرچہ الگ تو نہیں ہوا تھا لیکن زخم اتنے گہرے تھے کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ قاتل نے جسم کے یہ حصے بھی کاٹ کر الگ کرنے کی کوشش کی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی دو بیویاں ہیں۔ پہلی بیوی تین بچوں کے ہمراہ گجرات رہتی ہے۔ ان کی دوسری شادی کچھ عرصہ پہلے ہی ہوئی تھی اور وہ اس بیوی کے ساتھ ہی غازی روڈ پر واقع مکان میں رہ رہے تھے۔

پولیس کا رات گئے تک ان کی بیوی سے رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔

پولیس ان کے قاتلوں کا سراغ لگا سکی نہ قتل کے محرک کا تعین کر پائی ہے۔
پولیس کی مختلف ٹیمیں دہشت گردی ، ذاتی دشمنی اور سیاسی مخالفت سمیت مخلتف خطوط پر تفتیش کر رہی ہیں۔

ایس پی کینٹ محمد وسیم نے بتایا کہ ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کی جارہی ہے لیکن انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پولیس جلد اصل قاتلوں تک پہنچ جاۓ گی۔

پینتالیس سالہ چودھری شوکت حکمران مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے چودھری برادران یعنی وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی اور سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کے قریبی کارکن ساتھی بتائے جاتے ہیں۔

ایک مسلم لیگی کارکن نے بتایا کہ پاکستان میں جب پرامن بغاوت کے نتیجے میں نواز شریف حکومت برطرف کی گئی اور پنجاب میں چودھری برادران کے اثر رسوخ میں اضافہ ہوا اور لاہور کے ڈیوس روڈ پر واقع مسلم لیگ ہاؤس سے معزول وزیر اعظم نواز شریف کے حامیوں کا قبضہ ختم ہوا تو چودھری برادران گجرات سے چودھری شوکت عباس کو لاہور لائے اور انہیں مسلم لیگ ہاؤس کا نگران مقرر کر دیا گیا۔

انہوں نے حال ہی میں طلبہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کے مسلم لیگ ہاؤس میں داخلے پر پابندی بھی عائد کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد