لشکر جھنگوی، دو کارکن گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے پہاڑی ضلع چترال میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ دنوں آغا خان ہیلتھ سروس کے دفاتر پر حملے میں ملوث کالعدم لشکر جھنگوی کے دو مبینہ کارکن گرفتار کر لئے ہیں۔ چترال میں سپرانٹنڈنٹ پولیس محمد سعید خان کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں کالعدم لشکر جھنگوی کے دو ارکان بیس سالہ عبدالرفیق اور تیس سالہ جمعہ خان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دونوں کا تعلق چترال سے ہے۔ پولیس کے مطابق انہیں ان افراد کے تین دیگر ساتھیوں کی بھی تلاش ہے۔ گرفتار ہونے والوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آغا خان فاؤنڈیشن کو علاقے سے نکالنا چاہتے ہیں۔ آغا خان ہیلتھ سروس کے دفاتر پر اس حملے میں دو اہلکار ہلاک جبکہ پانچ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے چوکیدار محمد حکیم اور ڈرائیور شیر خان کو یکے بعد دیگرے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ آغا خان فاؤنڈیشن طویل عرصے سے پاکستان کے شمالی علاقوں میں کئی شعبوں میں جن میں صحت اور تعلیم بھی شامل ہے فلاحی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ آغا خان ہیلتھ سروس علاقے میں عورتوں اور بچوں کی صحت کے مراکز اور دو ہسپتال چلا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||