آغا خان فاؤنڈیشن کے دفاتر پر حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمالی ضلع چترال میں ہفتے کی رات نامعلوم افراد نے آغا خان ہیلتھ سروس کے دفاتر میں گھس کر دو اہلکاروں کو ہلاک جبکہ پانچ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ چترال سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نامعلوم نقاب پوش افراد نے جن کی تعداد چار بتائی جاتی ہے آغا خان ہیلتھ سروس کے ماونٹین اِن ہوٹل میں واقع دفاتر میں کل رات ساڑھے بارہ بجے کے قریب گھس کر چوکیدار اور ڈرائیور کو ہلاک کر دیا۔ حملہ آوروں نے غیر سرکاری تنظیم کی پانچ گاڑیاں بھی نذر آتش کر دیں۔ ہلاک ہونے والے دونوں افراد مقامی بتائے جاتے ہیں۔ واقعے کی رپورٹ درج کرلی گئی ہے اور تفتیش جاری ہے ۔ اس حملے کی وجہ ابھی واضع نہیں البتہ آغا خان ہیلتھ سروس کے مطابق اس واقعے سے قبل انہیں کسی جانب سے کوئی دھمکی نہیں ملی تھی۔ حکام اسے دہشت گردی کی واردات قرار دے رہے ہیں۔ ملک کے دیگر حصوں کے برعکس چترال کافی پرامن علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ آغا خان فاؤنڈیشن طویل عرصے سے پاکستان کے شمالی علاقوں میں کئی شعبوں میں جن میں صحت بھی شامل ہے فلاح کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ آغا خان ہیلتھ سروس علاقے میں عورتوں اور بچوں کی صحت کے مراکز اور دو ہسپتال چلا رہی ہے۔ اس واقعے سے چترال میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور اسے علاقے کی پرامن صورتحال کو خراب کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||