امداد تو ہے پر پہنچے کیسے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بندہ آچے کی چھوٹی سی ایئر پورٹ پر گزشتہ روز جب امدادی سامان کے طیارے آنے شروع ہوئے تو لوگوں کی امید بندھی کہ پانی میں گھرے مصیبت زدہ لوگ اب سکوں کا سانس لے سکیں گے۔ لیکن چند ہی گھنٹوں بعد یہ سب کچھ ایک واہمہ ثابت ہوا کیونکہ کئی سامان بردار طیارے فضا میں چکر کاٹتے رہے اور انہیں اترنے کے لیے جگہ نہ مل سکی۔ جو اتر گئے ان میں سے سامان نکالنے کے لیے مناسب تعداد میں عملہ موجود نہ تھا۔ جو تھوڑا بہت سامان نکل پایا اسے آگے پہنچانے کے لیے ٹرک نہیں تھے۔ اگر ٹرک مل گئے تو ڈرائیور نہیں تھے اور رضا کاروں نے یہ کام سنبھالا تو ٹرکوں میں پیٹرول نہیں تھا۔ جو سامان پہنچ چکا تھا اسے ذخیرہ کرنے کے لیے ایئر پورٹ کے آس پاس کو عمارت بھی سلامت نہ بچی تھی۔ آج اس صورت حال میں صرف اتنی تبدیلی آئی کہ امریکہ کا دیو ہیکل طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ابراہم لنکن‘ قریبی پانیوں میں لنگر انداز ہو گیا ہے۔ جہاں سے امدادی سامان والے ہیلی کاپٹر اڑ کر متاثرہ مقامات تک پہنچ سکتے ہیں لیکن عملاً پہنچ نہیں پا رہے۔ ان ہیلی کاپٹروں میں خوراک ہے جس کا چھ روز سے انتظار ہو رہا ہے۔ کمبل ہیں جو طوفان کے مارے لوگوں کو سردی سے بچانے کے لیے اشد ضروری ہیں اور بجلی بحال کرنے کا ساز و سامان ہے جو طوفان زدگان کے تاریک ماحول میں اجالا پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ ضرورت مندوں تک پہنچ کیوں نہیں پا رہا؟
آچے میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ھیڈ اس کی وجہ بیان کرتے ہوے کہتے ہیں ’مسئلہ یہ ہے کہ امدای سرگرمیوں کا کوئی نگران نہیں ہے۔ امدادی ادارے اپنا الگ کام کر رہے ہیں۔ سرکاری کارکن اپنی ڈفلی الگ بجا رہے ہیں۔ پولیس اپنا راگ گا رہی ہے اور فوج والے اپنا بینڈ بجا رہے ہیں۔ انڈونیشی حکومت ابھی تک یہی طے نہیں کر پائی کہ اتنی مقدار میں جو امداد دنیا بھر سے آ رہی ہے اسے دور دراز علاقوں تک پہنچانا کس طرح ہے‘؟ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شہر بندہ آچے کے بیچوں بیچ گزرنے والے دریا کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ دریا یوں لاشوں سے پٹا پڑا ہے کہ آپ لاشوں پہ چلتے ہوئے دریا پار جاسکتے ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے جواب میں جب امریکہ نے محض 35 ملین ڈالر کا اعلان کیا تو اسے اونٹ کے منہ میں زیرا کہہ کر دنیا بھر میں اس پر احتجاج کیا گیا۔ اب امریکہ نے رقم دس گنا کر دی ہے۔ ساڑھے تین سو ملین ڈالر کی امدادی اعلان کرتے ہوئے جہاں امریکی وزیر خارجہ نے اسے امریکیوں کی سخاوت سے تعبیر کیا وہیں طوفان زدگان کی ضرورتوں کو بھی محسوس کیا۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ امدادی رقم میں یہ دس گنا اضافہ جہاں امریکہ کی دریا دلی کا غماز ہے وہیں یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ طوفان زدگان کی ضروریات کتنی شدید ہیں۔ انہیں نہ صرف فوری طور پر امداد چاہیے بلکہ مستقبل میں اپنے معاشروں کی تعمیر نو کے لیے اور اقتصادی استحکام کے لیے بھی مدد درکار ہے۔ ادھر تھائی لینڈ میں حکام کہہ رہے ہیں کہ چار پانچ ہزار کے ابتدائی اندازے کے برعکس مرنے والوں کے تعداد اس سے دگنی ہے۔ جن میں ایک بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی ہے۔ ناقابلِ شناخت لاشوں کے تجزیے کے لیے ڈی این اے کے ماہرین تھائی لینڈ پہنچنا شروع ہوگئے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس شناختی عمل میں کچھ وقت لگے گا۔ جاپان نے متاثرہ ممالک کے لیے آج یعنی سنیچر کو پانچ سو ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ امریکہ کی اضافہ شدہ رقم سے بھی ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔ نجی سطح پر دنیا بھر میں چندے جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ روس کے شہر بسلان میں لوگوں نے چالیس ہزار ڈالر جمع کیے ہیں۔ یہ وہی شہر ہے جہاں ستمبر میں تین سو افراد ایک سکول کے گھیراؤ میں مارے گئے تھے۔ اس وقت دنیا بھر سے وہاں امداد پہنچی تھی اس کے جواب میں اہل بسلان نے بھی اب اپنا کردار ادا کیا ہے۔ برطانیہ میں چندے کی جو عوامی اپیل کی گئی تھی اس میں تین روز کے اندر 90 ملین ڈالر جمع ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||