قبائلی رہنما کی پاکستان واپسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی وزیرستان کے ایک با اثر قبائلی رہنما ملک باخان افغانستان میں کچھ عرصہ پناہ لینے کے بعد پاکستان واپس آ گئے ہیں۔ ان کی واپسی قبائلی عمائدین کی اس یقین دہانی کے بعد عمل میں آئی جس میں انہوں نے حکومتِ پاکستان سے کہا تھا کہ ملک باخان مستقبل میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے۔ قبائلی سردار نے اگست میں اس وقت افغانستان میں پناہ لے لی تھی جب حکومتِ پاکستان نے ان پر الزام لگایا تھا کہ وہ جنوبی وزیرستان میں بدامنی کو ہوا دے رہے ہیں اور حکومت کی طرف سے کی جانے والی امن کی کوششوں میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ ان پر یہ بھی الزام تھا کہ وہ قبائلی اور غیر ملکی شدت پسندوں کو پکڑنے میں حکومت کی مدد نہیں کر رہے تھے۔ ملک باخان ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ملک باخان کی حکومت کے ساتھ مفاہمت حال ہی میں حکومت اور جنوبی وزیرستان کے پانچ دوسرے شدت پسندوں کے درمیان امن معاہدے کے بعد عمل میں آئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||