شریف خاندان کے ابا جی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میاں محمد شریف اتفاق صنعتی گروپ اور پاکستان کے بااثر سیاسی گھرانہ شریف خاندان دونوں کے سربراہ تھے۔ ان دونوں کے لیے ان کا کہا حرف آخر تھا۔ انیس سو نوے سے انیس سو ترانوے تک اور پھر انیس سو ستانوے سے انیس سو ننانوے تک جب نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم رہے تو میاں محمد شریف کو پاکستان کا طاقتور ترین شخص سمجھا جاتا تھا جو پس پردہ رہ کر پاکستانی سیاست کے اہم فیصلے کیا کرتے اور ان کے دونوں بیٹے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف ان پر بلا چون و چرا عمل کرتے۔ چوراسی سالہ میاں شریف مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور میں جاتی امرا نامی گاؤں میں انیس سو بیس میں پیدا ہوۓ اور پاکستان بننے کے بعد اپنے چھ بھائیوں سمیت لاہو رمنتقل ہوگۓ۔ میاں شریف نے پانچ سو روپے قرض لے کر جو لوہے کی بھٹی لگائی تھی اس نے بعد میں بڑھتے بڑھتے فولاد کی اتفاق فاؤنڈری کی شکل اختیار کرلی اور اتفاق گروپ بن گیا جس نے ٹیکسٹائل اور کاغذ کے کارخانے بھی قائم کیے۔ سعودی عرب میں جلاوطنی کے قیام کے دوران میں بھی انہوں نے عزیزیہ ملز کے نام سے فولاد کا کارخانہ لگایا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اتفاق فاؤنڈری کو قومی ملکیت میں لے لیا گیا تھا جسے جنرل ضیاالحق کی فوجی حکومت کے دور میں اتفاق خاندان کو واپس کیا گیا اور یہاں سے شریف خاندان کی سیاست میں شمولیت کا آغاز ہوا۔ خاندان کے قریبی افراد کا کہنا ہے کہ بھٹو کے اتفاق فاؤنڈری کو قومیانے کے بعد شریف خاندان نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ایک دن ملک کی قومی سیاست میں سرگرم کردار ادا کرے گا۔ میاں شریف کے جنرل ضیاالحق اور گورنر جیلانی سے قریبی روابط رہے اور گورنر جیلانی نے میاں شریف کے بڑے بیٹے نواز شریف کو اپنی کابینہ میں وزیر خزانہ بنایا اور انیس سو پچاسی کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد وزیراعلی نامزد کیا۔ نواز شریف کے وزیراعلی اور بعد میں وزیراعظم اور مسلم لیگ کا صدر بننے میں میاں شریف کا کلیدی کردار تھا جنھوں نے پاکستان کے طاقتور فوجی حلقوں اور پنجاب کے باثر اخبارات کے مالکان سے قریبی تعلقات بناۓ اور انہیں سیاسی مقاصد کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔
میاں شریف کا پاکستان کی سیاست میں اہم کردار یہ ہے کہ انہوں نے ممتاز دولتانہ کے بعد پہلی مرتبہ پنجاب کی سیاسی قیادت کا تصور اجاگر کیا اور پاکستان کے افق پر نواز شریف پنجاب سے ایک مؤثر سیاسی رہنما کے طور پر ابھرے جو پہلے پنجابی سیاستدان ہیں جنھوں نے دو بار اسٹیبلشمینٹ کے تعاون سے اسلام آباد کا اقتدار سنبھالا اور اسی کو چیلنج کرتے ہوۓ اقتدار سے معزول کیے گۓ۔ میاں نواز شریف کی جب پہلی بار فوج کے سربراہ آصف نواز اور صدر غلام اسحاق خان سے اختلافات ہوۓ تو ان دونوں نے میاں شریف سے رابطہ کیا اور میاں شریف کی مداخلت پر کئی بار بحران تھما۔ دوسری بار میاں نواز شریف کی اقتدار سے معزولی سے پہلے جب ان کے فوج کے سربراہ پرویز مشرف سے اختلافات کی خبریں گرم تھیں تب بھی جنرل پرویز مشرف نے راۓ ونڈ کے فارم ہاؤس پر جا کر میاں شریف سے ملاقات کی تھی اور انہیں تجویز پیش کی تھی کہ نواز شریف کے بجاۓ شہباز شریف وزیراغطم کا عہدہ سنبھالیں۔ میاں شریف ایک کامیاب کاروباری اور عملی انسان تو تھے ہی انہوں نے آخری عمر میں ہسپتال اور تعلیمی ادارے قائم کرنے میں بھی دلچسپی لی۔ انہوں نے لاہور میں ایل ڈی اے سے سستے داموں لی گئی زمین پر اتفاق ہسپتال اور رائے ونڈ کے فارم ہاؤس پر اتفاق میڈیکل کمپلیکس اور شریف ایجوکیشن سٹی کے نام سے ادارے کھولے جہاں نجی مریضوں کے علاوہ میاں شریف کے خاندان سے وابستہ مستحق افراد کا مفت علاج بھی کیا جاتا ہے۔ میاں شریف کے ایک قریبی دوست اور پاکستان کے سابق صدر مملکت رفیق تارڑ ، جن کی اپنی صدر کے طور پر تقررری میاں شریف کی سفارش پر عمل میں آئی تھی، میاں شریف کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ایک پاک دل کے آدمی تھے اور پاکستان سے محبت رکھتے تھے اور پاکستان سے جلاوطنی نے ان کی صحت پر برے اثرات مرتب کیے۔ میاں رفیق تاڑر کا کہنا ہے کہ میاں شریف کی شخصیت کی خاص بات یہ تھی کہ وہ غریبوں کے ہمدرد تھے۔ میاں شریف کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کی وصیت کے مطابق انہیں لاہور میں راۓ ونڈ کے پاس شریف میڈیکل کمپلیکس میی دفن کیا جاۓ گا۔ میاں شریف نے اپنے پسماندگان میں تین بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||