BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 October, 2004, 13:58 GMT 18:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میاں شریف: میت لانے کی اجازت

درخواست
بتایا جاتا ہے کہ میاں شریف نے رائے ونڈ میں دفن کیے جانے کی وصیت کی تھی
پاکستانی وزیراطلاعات شیخ رشید نے کہا ہے کہ حکومت کو میاں شریف کی میت کی آمد اور رائے ونڈ میں اس کی تدفیں پر کوئی اعتراض نہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور حکومت کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا میت کے ساتھ میں نواز شریف یا شہباز شریف کو بھی آنے کی اجازت دی گئی ہے تو انہوں نے کہا کہ ’حکومت سے اس سلسے میں کوئی درخواست نہیں کی گئی‘۔

اس پر ان سے پوچھا گیا کہ اگر اس طرح کی درخواست کی گئی تو حکومت اجازت دے دے گی؟

شیخ رشید نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’جب اس طرح کی درخواست کی جائے گی تو تب اس پر غور کیا جائے گا‘۔

اس سے قبل پاکستان کےسابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے والد میاں محمد شریف کی میت پاکستان لانے کے لیے، بظاہر شریف خاندان سے غیر متعلق ایک محفوظ نامی شخص نے جدہ میں پاکستانی قونصل خانے کو درخواست دی تھی جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ’حکومت غور کر رہی ہے اور توقع ہے کہ مثبت فیصلہ کیا جائے گا‘۔

یہ بات بھی وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے بی بی سی سے اسلام آباد میں بات کرتے ہوئے بتائی تھا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کوئی فلائٹ نہ ملنے کے باعث میاں محمد شریف کی میت اب پیر کے روز کراچی لائی جائے گی جہاں سے وہ لاہور منتقل کی جائے گی۔ انہیں نماز ظہر کے وقت دفنایا جائے گا۔

دریں اثناء مسلم لیگ نواز کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات صدیق الفاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ میاں محمد شریف پاکستانی ہیں اور ان کی میت پاکستان لانے کے لیے حکومت سے اجازت کی ضرورت نہیں۔

میت کے ساتھ نواز شریف یا شہباز شریف میں سے کسی کے آنے کے بارے میں شہباز شریف کے بیٹے سلمان شریف کا کہنا ہے کہ ’ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا‘۔

صدیق الفاروق نے کہا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے سعودی حکومت سے رابطہ کر کے ان سے کہا ہے کہ میت کے ہمراہ ان کے پاکستان جانے کا انتظام کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ میاں شریف نے اپنے بچوں سے کہا تھا کہ انہیں لاہور کے نواحی علاقے رائےونڈ میں شریف میڈیکل سٹی کے سامنے دفن کیا جائے۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اکتوبر سن ننانوے میں اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت ایک پرامن فوجی بغاوت کے ذریعے ختم کردی تھی اور ان پر بغاوت کا مقدمہ بھی چلایا۔

لیکن کچھ عرصے بعد میاں نواز شریف کو پورے خاندان کے ہمراہ دس دسمبر سن دو ہزار کو سعودی عرب بھیج دیا گیا تھا اور وہ اس وقت سے وہ وہاں مقیم ہیں۔

حکومت کا دعویٰ رہا ہے کہ نواز شریف دس برس تک پاکستان واپس نہ آنے کا معاہدہ کر کےگئے ہیں جبکہ شریف خاندان کےذرائع ایسے کسی معاہدے کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شریف خاندان کو پاکستان حکومت نے زبردستی سعودی عرب جلاوطن کردیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد