مدرسۃ الاسلام: نماز کا اجازت نامہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قائد اعظم محمد علی جناح کی ابتدائی درسگاہ سندھ مدرسۃ الاسلام کے احاطے میں واقع مساجد میں نماز پڑھنے کے لیے خصوصی اجازت نامے کی پابندی لگا دی گئی ہے۔ سندھ مدرسۃ الاسلام کے پرنسپل محمد علی شیخ نے بتایا کہ خصوصی اجازت نامے جاری کرنے کا فیصلہ مدرسے کے احاطے میں واقع مسجدِ حیدری میں مبینہ خود کش حملے کے بعد کیا گیاتھا۔ اس سال سات مئی کو ہونے والے اس حملے میں 23 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم مدرسے کے اساتذہ اور طلبہ کو اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مگر ان کو مسجد میں داخلے کے لئے مدرسے کا شناختی کارڈ دکھانا ہوگا۔ نمازیوں کے لیے اجازت نامے کی پچاس روپے فیس رکھی گئی ہے۔ اجازت نامہ پر نمازی کی تصویر چسپاں ہوگی اور اس کا نام، پیشہ اور دیگر کوائف درج ہوں گے۔ یہ اجازت نامہ عمر بھر کے لئے جاری کیا گیا ہے۔ مدرسے کے پرنسپل کے مطابق یہ اجازت نامہ تین مقامات پر چیک کیا جائے گا۔ سب سے پہلے یہ اجازت نامہ مدرسے کے چوکیدار کو دکھانا ہو گا جس کے بعد تھوڑے فاصلے پر تعینات ایک پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ دوبارہ اسے چیک کرے گا جبکہ مسجد میں داخلے پر ایک پولیس اہلکار اجازت نامے کو تیسری بار چیک کرے گا۔ ابھی تک دو سو سے زائد نمازیوں کو اجازت نامے جاری کیے جا چکے ہیں۔ تاہم شہر کی پولیس کا کہنا ہے کہ نمازیوں کے لیے ایسے اجازت نامے مدرسے میں قائم مساجد میں تو استعمال کیے جا سکتے ہیں مگر عام مساجد میں ایسے اقدام ممکن نہیں۔ کراچی پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز فیاض لغاری نے اس طریقہ کار کو اپنانے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ کراچی میں تمام مساجد کے باہر بینر لگائے گئے ہیں جس میں نمازیوں کو کسی بھی مشتبہ شخص سے ہوشیار رہنے کے لئے کہا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||