’افغان انتخاب کا بائیکاٹ کریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے سابق وزیر اعظم اور حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے افغانوں کو آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے لئے کہا ہے۔ ان سے منصوب یہ تازہ ترین بیان پشاور کے قریب افغان پناہ گزین کیمپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حکمت یار کا، جوکہ امریکہ کو دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب ہیں، کہنا تھا کہ امریکی بی باؤن جنگی طیارے کے زیر سایہ انتخابات میں افغانوں کو حصہ نہیں لینا چاہیے۔ دری اور پشتو زبانوں میں تقسیم کئے گئے اس بیان میں ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کا بائیکاٹ افغانوں کا کٹھ پُتلی حکومت کے خلاف احتجاج ہوگا۔ حکمت یار سے منصوب اس قسم کے بیانات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں لیکن ان کی تصدیق آزاد ذرائع سے نہیں ہوسکی ہے۔ تقسیم کئے گئے بیان کے مطابق سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ افغان انتخابات دراصل امریکی صدر جارج بُش کی انتخابی مہم کا حصہ ہیں اور ان انتخابات میں ووٹ ڈالنا صدر بش، برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر اور روسی صدر پوتن کو ووٹ دینے کے مترادف ہوگا۔ افغانستان میں نو اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بشمول حامد کرزئی اٹھارہ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ حفاظتی صورتحال کی بہتری اور انتخابات کے پرامن انعقاد کے لئے امریکہ گیارہ سو مزید فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کر چکا ہے۔ دوسری جانب طالبان نے تمام صدارتی امیدواروں اور انتخابات میں حصہ لینے والوں کے خلاف کارروائی کی دھمکی دے رکھی ہے۔ ایک زمانے میں پاکستان کے قریب سمجھے جانے والے گلبدین حمکت یار نے افغانستان میں روسی مداخلت کے خلاف جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||