افغانستان کلیےمزید امریکی فوجی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے افغان صدارتی انتخابات کے دوران حفاظتی انتظامات کے لیے مزید فوجی بھیجنے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ افغانستان بھیجے جانے والے فوجیوں کا تعلق بیاسویں ایئر بورن ڈویژن سے ہے جس کا مرکز فورٹ بیریج، شمالی کیرولائنا میں ہے۔ نک چائلڈ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے افغانستان میں عدم تحفظ کی صورتحال اور طالبان کی دھمکیوں سے پیدا ہونے والے خطروں کے بارے میں امریکی تشویش کا اظہار ہوتا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان جانے والے فوجیوں کی تعداد سات سو سے گیارہ سو کے درمیان ہو سکتی ہے۔ یہ تعداد ان سترہ ہزار امریکیوں کے علاوہ ہو گی جو امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں پر مشتمل ہیں اور اس کے علاوہ افغانستان میں اس افغان فوج نے بھی کام شروع کر دیا ہے جس کی تشکیل حال ہی میں افغان نیشنل آرمی کے نام سے کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں افغانستان میں عبوری حکومت کے صدر حامد کرزئی کے ہیلی کاپٹر پر ایک حملہ ہوا تھا اور طالبان کے نمائندوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ہیلی کاپٹر پر راکٹ حملہ انہوں نے کرایا تھا۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ افغان صدراتی انتخابات کو ناکام بنائیں گے اور ان میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں پر حملے کریں گے۔ صدر کرزئی پر حملہ اس وقت ہوا تھا جب پکتیا صوبے میں گردیز کے قریب ایک ہوائی اڈے پر ان کا ہیلی کاپٹر اتر رہا تھا جس کے بعد ہیلی کاپٹر کو وہاں نہیں اتارا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||