BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 September, 2004, 14:32 GMT 19:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان کلیےمزید امریکی فوجی
News image
افغانستان میں امریکی فوجی مسلسل چوکس رہتےمہں
امریکہ نے افغان صدارتی انتخابات کے دوران حفاظتی انتظامات کے لیے مزید فوجی بھیجنے کی تصدیق کی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ افغانستان بھیجے جانے والے فوجیوں کا تعلق بیاسویں ایئر بورن ڈویژن سے ہے جس کا مرکز فورٹ بیریج، شمالی کیرولائنا میں ہے۔

نک چائلڈ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے افغانستان میں عدم تحفظ کی صورتحال اور طالبان کی دھمکیوں سے پیدا ہونے والے خطروں کے بارے میں امریکی تشویش کا اظہار ہوتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان جانے والے فوجیوں کی تعداد سات سو سے گیارہ سو کے درمیان ہو سکتی ہے۔

یہ تعداد ان سترہ ہزار امریکیوں کے علاوہ ہو گی جو امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں پر مشتمل ہیں اور اس کے علاوہ افغانستان میں اس افغان فوج نے بھی کام شروع کر دیا ہے جس کی تشکیل حال ہی میں افغان نیشنل آرمی کے نام سے کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں افغانستان میں عبوری حکومت کے صدر حامد کرزئی کے ہیلی کاپٹر پر ایک حملہ ہوا تھا اور طالبان کے نمائندوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ہیلی کاپٹر پر راکٹ حملہ انہوں نے کرایا تھا۔

طالبان کا کہنا ہے کہ وہ افغان صدراتی انتخابات کو ناکام بنائیں گے اور ان میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں پر حملے کریں گے۔

صدر کرزئی پر حملہ اس وقت ہوا تھا جب پکتیا صوبے میں گردیز کے قریب ایک ہوائی اڈے پر ان کا ہیلی کاپٹر اتر رہا تھا جس کے بعد ہیلی کاپٹر کو وہاں نہیں اتارا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد