ہرات: غلبےکی جدوجہد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے شہر ہرات میں مسلح جھڑپوں کے بعد نئے گورنر کو امن و امان کی بحالی کے چیلنج کا سامنا ہے۔ نئے گورنر محمد خیرخواہ ایک امریکی صدر کے مانند انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لئے آئے۔ امریکی سرپرستی میں ہونے والے اس آپریشن میں نئے گورنر حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لئے سیدھے معزول گورنر اسماعیل خان کے دفاتر میں واقع ہال میں گئے۔ یہ وہی دربار تھا جہاں تین ماہ قبل معزول گورنر اور مجاہدین کے رہنما ہفتہ وار دربار سجایا کرتے تھےاور عوام الناس سے ان کےمسائل کے حل کے لئے شاہانہ انداز میں عرضیاں وصول کرتے تھے۔
اگرچہ اسماعیل خان کے اس انداز حکمرانی پر کافی تنقید ہوئی لیکن ہرات کی تعمیر نو کے لئے کئے جانے والے ان کے اقدامات کو کافی پذیرائی بھی ملی۔ ہرات دوسرے افغان شہروں کی نسبت کافی بہتر حالت میں اور محفوظ ہے۔ نئے گورنر کی افتتاحی تقریب کے دوران ہی شہر میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے دفاتر اور افغان مہاجرین کی ایجینسی کو اسماعیل خان کے حامیوں کے حملے سے شدید نقصان پہنچا تھا۔ لیکن قریبی عمارتوں کو حملے سے کوئی نقصان نہیں پہنچا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ اقوام متحدہ کے دفاتر کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نئے گورنر کی حلف برداری کی تقریب کے موقع پر یہاں یہ امر بھی باعث حیرت ہے کہ صدارتی انتخابات سے صرف تین ہفتہ قبل صدر کارزئی اور امریکہ کو ہرات کے گورنر کی تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اگرچہ دوسرے دن تک شہر میں ہنگاموں کی شدت میں کمی آ گئی تھی، لیکن ابھی بھی یہ واضع نہ تھا کہ اقتداد اور طاقت کس کے پاس تھی؟ نئے گورنر کے پاس یا معزول گورنر کے ہاتھوں میں؟
معزول گورنر کی حفاظت ان کے ملیشیا سپاہی کر رہے ہیں اور انہوں نے ابھی تک ہتھیار نہیں ڈالے۔ اس سوال کا جواب بشمول نئے گورنر کسی کے پاس نہیں کہ معزول گورنر کے حامی سپاہیوں سے ہتھیار کون ڈلوائے گا۔ افغانستان کے اہم ترین شہروں میں سے ایک شہر پر مکمل غلبے کی جدوجہد ابھی جاری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||