افغانستان مشترکہ ذمہ داری: پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے مشتبہ ارکان کی طرف سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدام نہیں کر رہا۔ افغانستان میں سلامتی کی صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منیر اکرم نے کہا پاکستان نے سرحد پر پچھتر ہزار افراد تعینات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں کارروائیوں کے دوران پاکستان نے بہت سا جانی نقصان اٹھانے کے ساتھ ساتھ سیاسی خطرات بھی مول لیے ہیں۔ منیر اکرم نے کہا کہ اس کے مقابلے میں افغانستان کے اندر ساڑھے چھ ہزار بین الاقوامی فوجی تعینات کیے گئے ہیں اور وہاں صدارتی انتخابات سے قبل اس فوج میں صرف پندرہ سو افراد کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی سفیر نے کہا افغانستان کی سرحد پر سلامتی بین الاقوامی اور افغانستان کی فوج کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دو روز قبل پاکستان اور افغانستان کے صدور نے غیر ملکی دہشت گردی سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||