قیدیوں پر مقدمہ افغانستان میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ملک میں جو قیدی اس کی قید میں ان پر مقدمات چلانے کے لئے انہیں افغان حکام کے حوالے کردیا جائے گا۔ کچھ عرصہ پہلے اسی سال امریکی فوج نے بتایا تھا کہ افغانستان میں کوئی تین سو کے لگ بھگ افراد کو مختلف مقامات پر قیدرکھا ہوا ہے۔ ان کی اکثریت باگرام اور قندھار کے ہوائی اڈوں پر قید ہے اور کسی پر بھی کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔ اب کابل میں امریکی فوج کے ایک ترجمان میجر اسکاٹ نیلسن نے بتایا کہ یہ لوگ عالمی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ اس زمرے میں آنے والے تمام ہی افراد کو کیوبا میں گوانتانامو کے امریکی فوجی قیدخانے بھیجا جا چکا ہے۔ تاہم امریکی ترجمان نے بتایا ان افراد کو اب بھی امریکی تحویل میں رکھنا اس لیےضروری ہے کہ یہ افراد اب بھی افغانستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ملک کا نظام ان افراد پر مقدمہ چلانے اور سزا دینے کے قابل نہیں ہے۔ ان لوگوں کو بالآخر افغان حکومت کے حوالے کرنے کی بات ایک سوال کے جواب میں سامنے آئی نا کہ باضابطہ اعلان کے طور پر۔ یہ بات بھی ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی فوج پر خاصا دباؤ ہے کہ وہ افغانستان میں قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر ایک داخلی انکوائری کی رپورٹ شائع کرے۔ افغانستان میں پانچ افراد امریکی فوج کی حراست میں ہلاک ہوچکے ہیں اور فوج پر بھی تشدد میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ اب اس تازہ رپورٹ کا اجراء بھی دراصل عراق میں قیدیوں سے بدسلوکی کے الزامات کے بعد کیا گیا ہے ورنہ یہ رپورٹ اس برس جون میں جاری ہونا تھی۔ انسانی حقوق کے امریکی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے نہ صرف اس رپورٹ کے اجراء میں تاخیر پر تنقید کی ہے بلکہ ایک سابق امریکی وزیردفاع کی طرف سے کی گئی اس انکوائری رپورٹ پر بھی نکتہ چینی کی ہے جو عراق اور افغانستان میں قیدیوں سے بدسلوکی میں امریکی فوجیوں کے کردار کے بارے میں تھی۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس انکوائری رپورٹ میں عراق میں افغانستان میں قیدیوں کی ہلاکتوں اور ان پر تشدد کا بغور جائزہ نہیں لیا گیا |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||