رپورٹرز کو حراساں کرنے کی مذمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم رپوٹرز ودآؤٹ باڈرز نے جمعہ کے روز قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سرکاری ریڈیو کو نقصان پہنچانے اور فوج کی جانب سے مقامی صحافیوں کو ہراساں کرنے کی مذمت کی ہے۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں آج رپورٹرز ودآوٹ باڈرز یا بلاسرحد رپوٹرز کی جانب سے ای میل کے ذریعے تمام دنیا میں جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ جنیوا کنوینشن کے تحت ذرائع ابلاغ کے دفاتر اگر وہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہو رہے تو جائز فوجی اہداف نہیں ہیں لہذا ان پر حملے یا انہیں نقصان پہنچانا مناسب نہیں۔ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں نامعلوم افراد نے نئے سرکاری ریڈیو کا ٹاور بم دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی تھی۔ تنظیم نے اس واقعے کی پرزور مذمت کی ہے۔ تنظیم نے قبائلی ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے قبائلی علاقوں میں صحافتی آزادی کی اپیل کی بھی تائید کی۔ آر ایس ایف کا کہنا تھا کہ اس سال مارچ کے بعد سے جنوبی وزیرستان میں سرکاری پابندیوں کی وجہ سے صحافتی ذمہ داریاں انجام دینا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسے مارچ سے جون کے درمیان دس صحافیوں کی گرفتاری کی خبریں موصول ہوئیں جوکہ تشویش کی بات ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||