پاک ہند خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور ہندوستان کے خارجہ سیکریٹریوں نے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے جبکہ ہندوستانی وزیر خارجہ سارک اجلاس میں شرکت کے لئے پاکستان کے دارالحکومت پہنچ رہے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق پاکستانی سیکریٹری خارجہ ریاض کھوکھر اور ان کے بھارتی ہم منصب شاشانک نے ایک گھنٹہ تک جاری رہنے والی ملاقات میں اب تک ہونے والے فیصلوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس سے پہلے پاکستانی وزیر خارجہ خورشید احمد قصوری نے کہا ہے کہ وہ اپنے بھارتی ہم منصب نٹور سنگھ سے چند دنوں میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ وزیر خارجہ نٹور سنگھ کا اسلام آباد کا دورہ سارک علاقائی کانفرنس میں شرکت کے سلسلے میں ہے۔ جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کے فروغ کی تنظیم سارک کا اجلاس منگل کو اسلام آباد میں شروع ہوگا۔ پاکستانی وزیر خاجہ نے کہا کہ نٹور سنگھ سے ان کی ملاقات سارک اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے۔ سارک اجلاس میں ہندوستان، پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ اور سری لنکا کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔ خورشید احمد قصوری نے کہا کہ پاکستان کمشیر سمیت دوطرفہ معاملات پر لچکدار رویہ اختیار کرنے کو تیار ہے بشرطیکہ ہندوستان بھی ویسا ہی کرے۔ انہوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف بھی اسی خیال کے حامی ہیں۔ قصوری کا کہنا تھا کہ سارک علاقائی تنظیم دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کا شکار رہی ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سارک ملکوں کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان سے سبق سیکھنا چاہئے، جو سارک ممالک سے پیچھے ہوتے تھے لیکن اب کافی آگے نکل گئے ہیں۔ قصوری نے کہا کہ سارک وزراء خارجہ کے اجلاس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ بھی اپنی ملاقات الگ کریں گے لیکن اس ملاقات کے لئے کوئی ایجنڈہ نہیں طے کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ دونوں ملک بات کریں اور کشمیر کا ذکر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سرکار حریت کانفرنس سے بات چیت کررہی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مانتی ہے کہ یہ تنظیم کشمیری لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے، ورنہ حریت کانفرنس کو نظرانداز کردیتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||