اٹھارہ اگست کو وکلاء کا یومِ سوگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی مختلف وکلاء تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ حکمران جماعت کے نامزد وزیراعظم کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے روز یعنی اٹھارہ اگست کو ملک بھر میں وکلاء یوم سوگ منائیں گے۔اس روز احتجاجی وکلاء بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گےاور مختلف بار ایسوسی ایشن احتجاجی جلسے کریں گی۔ اس بات کا فیصلہ لاہورمیں وکلاء کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایک اجلاس میں کیا۔ اس اجلاس میں ملک بھر سے وکلاء تنظیموں کے رہنماؤں و دیگر مندوبین نے شرکت کی تھی ۔ اجلاس کے بعد پاکستان بار کونسل کے وائس چئرمین جٹس (ر) رشید اے رضوی نے دیگر وکلاء رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں سے آگاہ کیا ۔اس موقع پر پاکستان بار ایسوسی ایشن کے صدرجسٹس ریٹائرڈ طارق محمود، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احمد اویس ایڈووکیٹ اور پاکستان بار کے ممبر جمیل قاضی ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ’پارلیمان اور اس کے وقار کو برباد‘ کیا جا رہا ہے جس طریقہ کار سے ظفراللہ جمالی سے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ لیا گیا اور چودھری شجاعت کو لایا گیا اور پھر اب شجاعت کی جگہ جس طریقہ سے شوکت عزیز کو لایا جا رہا ہے اس سے پارلیمان ایک غیر اہم اور غیر متعلق ادارہ بن کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے طریقے استعمال کرکے پورے جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایسا بیرونی طاقتوں کے کہنے پر کیا جارہا ہے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں جس کسی کو بھی وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھایا جائےگاوہ کہیں ستمبر میں پارلیمان میں کھڑا ہوکر یہ نہ کہہ دے کہ جنرل مشرف اپنی کیپ نہ اتاریں۔ انہوں نے کہاکہ وکلاء اس سارے معاملے کی شدت سے مخالفت کرتے ہیں۔ ’یہ ایک اصولی مخالفت ہے اسی لیے جب اٹھارہ اگست کو حکمرانوں کے نامزد وزیراعظم شوکت عزیز کے لیے قومی اسمبلی کے تھر پارکر اور اٹک کے حلقوں میں پولنگ ہو رہی ہوگی وکلاء یوم سیاہ منائیں گے۔‘ وکلاء نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گجرات راجہ منور کے رویہ کی بھی مذمت کی اور کہا کہ وہ وکلاء پر تشدد کے علاوہ انتالیس جعلی پولیس مقابلوں اور سانحہ سیالکوٹ جیل میں ملوث ہیں انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف وکلاء اٹھائیس جولائی کو ملک بھر میں احتجاج کریں گے اور اور ساڑھے دس بجے احتجاجی جلسے کیے جائیں گے۔ وکلاء نے مطالبہ کیا کہ ججوں کی تقرری میں سن انیس سو چھیانوے میں طے شدہ فیصلہ اور قواعد پر عملدرآمد کیا جائے، تمام صوبوں میں ججوں کو ان کی سنیارٹی کے لحاظ سے ترقی دی جائے۔ وکلاء نے اعلان کیا ہے کہ آئین توڑے جانے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی تفصیلات طے کرنے کے لیے سات اگست کو وکلاء تنظیموں کے نمائندوں کا ایک اجلاس کراچی میں ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||