پاکستانی وکلاء کی ایک اور ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعلی پنجاب کے آبائی ضلع گجرات میں ضلعی پولیس آفیسر اور مقامی وکلاء کے درمیان جھگڑا شدت اختیار کرگیا ہے ۔ وکلاء نے دھمکی دی ہے کہ اگر مذکورہ پولیس آفیسر کو تبدیل نہ کیا گیا تو وہ جمعرات سے صوبہ پنجاب میں ہڑتال کریں گے۔ ضلع گجرات میں وکلاء پندرہ مئی سے ہڑتال پر ہیں اورضلعی پولیس آفسر راجہ منور حسین کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ گجرات بار ایسوی ایشن نے مذکورہ پولیس آفیسر کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔ پنجاب بار کونسل کے وائس چئیرمین تنویر الرحمن رندھاوا نے بی بی سی کو بتایا کہ گجرات کے ضلعی پولیس آفیسر نے گجرات بار ایسوسی ایشن کے بارے میں توہین آمیز باتیں کی ہیں۔ بدھ کو لاہور کورٹ کے جسٹس شیخ رشید نے گجرات ضلعی پولیس آفیسر کے خلاف گجرات بار ایسوی ایشن کی درخواست کی ابتدائی سماعت کی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ضلعی پولیس آفیسر گجرات سیالکوٹ ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے عہدہ کا افسر ہے اور پولیس آرڈر سن دو ہزار دو کے تحت ایک ایس پی یا ایس ایس پی کسی ضلع کاپولیس افسر لگ سکتا ہے اس لیے اس کی اس عہدہ پر تعیناتی غیر قانونی ہے۔ رٹ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس آفیسر راجہ منور حسین گزشتہ سال سیالکوٹ جیل میں ججوں کی ہلاکت کے مقدمہ قتل میں نامزد ملزم ہیں اور عدالت ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھا ہے۔ رٹ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس افیسر راجہ منور نے عدالت میں ایک درخواست دی ہے کہ اسے عدالت سے حاضری سے مثتثنی قرار دیا جائے کیونکہ اسے خود پر حملہ کا خطرہ ہے۔ درخواست گذار کا موقف ہے کہ جو پولیس آفیسر اپنی حفاظت نہیں کرسکتا وہ کسی ضلع میں عوام کی کیا حفاظت کرئے گا۔ پنجاب بار کونسل کے وائس چئیرمین نے کہا کہ اگر حکومت گجرات کے ڈی پی او کو تبدیل نہ کیا تو پورے ملک کی بار ایسوسی ایشنوں کا اجلاس بلایا جائے گا اور ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||