پنجاب میں وکلاء کی ایک اور ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج پورے پنجاب میں وکلاء کی بھاری اکثریت نے گجرات بار کونسل سے اظہار یکجہتی کے لیے عدالتی کی ہڑتال کی اور بہت کم تعداد میں وکلاء عدالتوں میں پیش ہوئے۔ ہڑتال کی درخواست پنجاب بار کونسل نے کی تھی جس کے کہنے پر ایک ماہ پہلے بھی صوبہ بھر میں اسی معاملہ پر وکلاء نے ہڑتال کی تھی۔ پنجاب بار کونسل حکومت پنجاب سے گجرات پولیس کے سربراہ ضلعی پولیس آفیسر راجہ منور حسین کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے جن کا گجرات بار ایسوسی ایشن سے جھگڑا چل رہا ہے۔ سنیچر کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے والے ایک وکیل محمد بلال نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا بہت ضروری مقدمہ تھا جس میں مخالف فریق کو بھی بلایا گیا ہے اس لیے ان کا پیش ہونا مجبوری تھا اگرچہ انھیں بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے عدالتی کام نہ کرنے کے لیے کہا تھا۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار آذر لطیف نے بی بی سی کو بتایا کہ آج لاہور کی عدالتوں میں مکمل ہڑتال کی گئی اور جو وکیل عدالتوں میں پیش ہوئے ان کا مقصد تھا کہ اگلی تاریخ لے لیں یا جج کو اطلاع کر دیں۔ پنجاب بار کونسل کے وائس چئیرمین تنویر الرحمن رندھاوا نے کہا کہ دس جولائی کو پنجاب با رکونسل کے چیئرمینوں اور ان کی اگزیکٹو کونسل کے چیئرمینوں نے دوسرے تمام صوبوں اور آزاد کشمیر کی بار کونسلوں کا اجلاس بلایا ہے کہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ رندھاوا نے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ اس تحریک کو پورے ملک میں لے کر جائیں گے کیونکہ گجرات میں وکیلوں کے ساتھ بہت ظلم ہورہا ہے۔ پنجاب بار کونسل کا مطالبہ ہے کہ گجرات کے ضلعی پولیس آفیسر کو تبدیل کیاجائے کیونکہ انھوں نے گجرات بار کے صدر او دوسرے وکیلوں کے ساتھ بدتمیزی کی اور ان کے خلاف بے بنیاد مقدمات درج کیے۔ رندھاوا نے کہا کہ پنجاب بار کونسل کا مطالبہ ہے کہ گجرات میں اٹھائیس جون کو وکلا پر ہونے والے حملہ کی عدالتی تحقیق کرائی جائے اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی اٹھ جولائی کو گجرات بار کےمعاملہ پر ایک اجلاس بلایا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||