پنجاب میں وکلاء کی جزوی ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب اور اسلام آباد کی عدالتو ں میں جمعرات کو وکلاء نے گجرات پولیس کے سربراہ کے خلاف احتجاج کے طور پر عدالتی کام کی جزوی ہڑتال کرتے ہوئے ساڑھے دس بجے صبح کے بعد کام نہیں کیا۔ وکلاء عدالتوں میں صبح کے وقت زیادہ تر ہنگامی نوعیت کے مقدمات میں ججوں کے سامنے پیش ہوئے۔ پنجاب اسمبلی میں گجرات کے ضلعی پولیس افسر اور وکلاء کے درمیان لڑائی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی رانا آفتاب نے کہا کہ پولیس افسر کو ’شولڈر پروموشن‘ سے ضلعی پولیس افسر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پولیس افسر نے وکلاء پر تشدد کیا ہے جس سے پورے صوبہ کے وکلاء سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ رانا آفتاب کے مطابق اس افسر کی وجہ سے گجرات اشتہاری ملزموں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے کیونکہ یہ صاحب اقتدار کا ذاتی نوکر ہے۔ اس پر صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان کو بتایا کہ جن معاملات پر وکلاء نے تحفظات کا اظہار کیا ہے ان پر بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جس پولیس افسر کے خلاف شکایات ہیں اس کے بارے میں وکلاء سے بات کرکے مسئلہ کا حل نکالیں گے اور حکومت وکلاء سے رابطہ میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||