BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 May, 2004, 11:01 GMT 16:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدلیہ اور وکلاء کا تنازعہ
وکلاء کا احتجاج (فائل فوٹو)
وکلاء کا احتجاج (فائل فوٹو)
لاہور میں چند روز سے ماتحت عدلیہ کے ججوں اور وکلاء کے درمیان شدید اختلافات جاری ہیں۔ سینکڑوں ججوں نے اس وقت استعفی دے دیا تھا جب وکلاء نے ایک سیشن جج کے استعفے کا مطالبہ اس لئے کیا کہ انہوں نے وکلاء سے دورانِ گفتگو یہ کہا کہ اب کوئی بات نہیں ہوسکتی اور وہ وہاں سے چلے جائیں۔ اس کے بعد وہاں موجود پولیس نے ایک وکیل کو پکڑ کر گھسیٹا تو اس کی شلوار اتر گئی۔ وکلاء میں کافی اشتعال پایا جاتا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احمد اویس کا کہنا ہے کہ وکلاء کا سب سے بڑا مطالبہ سیشن جج کا مطالبہ ہے۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری کی مداخلت پر ججوں نے کام شروع کردیا ہے تاہم وکلاء اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آپ کے خیال میں پاکستان کے نظامِ انصاف میں وکلاء اور ججوں کا کردار کیا رہا ہے؟ بالخصوص ماتحت عدلیہ کیسے کام کررہی ہے؟ ملک کی ترقی میں وکلاء کیا کردار نبھا رہے ہیں؟ کیا عدالتیں انصاف کے تقاضے پوری کررہی ہیں؟ ججوں اور وکلاء کے درمیان جاری تنازعہ پر آپ کی کیا رائے ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


خالد حسین، ہالینڈ: پاکستان میں کسی جج میں اتنی جرات نہیں کہ وہ یہ کہہ سکے کہ مشرف نے نہ صرف قانون توڑا ہے بلکہ اسے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال بھی کیا ہے۔ ایسی عدلیہ سے انصاف کی توقع کون کر سکتا ہے۔ ہماری عدلیہ کے پاس اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کا کوئی اختیار ہی نہیں۔

سیاسی وابستگی
کوئی وکیل صرف اس وقت تک اچھا ہوتا ہے جب تک اس کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں ہوتی۔ دوسرے سرکاری اداروں کی طرح عدلیہ بھی اخلاقی اور سماجی پستیوں کا شکار ہے۔
نعمان احمد، راولپنڈی

خلیل، بہاولنگر: کسی قوم کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے جب منصف رشوت کھانے لگ جائیں، پھر انصاف کیسے ہوگا۔ جب تک اسلامی عدالتیں نہیں بن جاتی، ایسا ہوتا رہے گا۔

محسن میگھانی، کینیڈا: پاکستان چار ستونوں پر کھڑا ہے جو آرمی، عدلیہ، پولیس اور سیاستدان ہیں۔ یہ اتنے کرپٹ ہو چکے ہیں کہ مجھے ڈر ہے کہ ایک روز یہ پاکستان کی بنیاد ہی کو تباہ کرنے کا باعث نہ بن جائیں۔ خدا ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے۔

آصف لودھی، پاکستان: جب تک حکومت اپنے اختیارات کم نہیں کرتی اور عدلیہ کو آزاد نہیں کرتی، ایسا ہی ہو گا۔

عابد خان، لاہور: دونوں ہی کرپٹ ہیں۔

حسین جان مینگل، کراچی: جج یا وکلاء کیا کریں، یہاں تو ہرچیز پیسوں پر بکتی ہے۔

انس، لاہور: آپ ان وکیلوں اور ججوں کی یورنیفارم دیکھیں۔ جب یہ بلیک اور وہائیٹ ہے تو ان کا کردار کیا ہو گا۔ یہ بلیک کو وہائیٹ اور وہائیٹ کو بلیک کرنا بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔

عدلیہ کا کردار
 پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کا کردار بدترین رہا ہے اور اس کی کارکرگی سے صاف طاہر ہے کہ اس ادارے میں بدعنوانی کی جڑیں کس قدر مضبوط ہیں۔ لاہور کے واقعے سے واضح ہوگیا ہے کے اب ججوں کی علامتی عزت بھی نہیں رہی۔
صائمہ خان، کراچی

عطا حسین، دبئی: دوسرے لوگوں کی طری وکیل حضرات بھی صرف پیسہ بنا رہے ہیں، قانون اور اصولوں کا احساس کسی کو بھی نہیں ہے۔

عالیہ میسی، ساؤتھ کوریا: اے خدا تیری تقسیم عجیب ہے، دستار انہیں دی ہے جو سر نہیں رکھتے۔

آصف ججہ، کینیڈا: میرے خیال میں پاکستان میں اس وقت تک جمہوریت قائم نہیں ہو سکتی جب تک انصاف نہیں ہوگا۔ پاکستان میں جج فیصلہ دینے سے پہلے جنرلوں کے حکم یا پیسے کا انتظار کرتے ہیں۔

اختر نواز، لاہور: پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں سرکار عدلیہ اور پولیس کے ذریعے استحصال کرتی ہے۔

نعمان احمد، راولپنڈی: کوئی وکیل صرف اس وقت تک اچھا ہوتا ہے جب تک اس کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں ہوتی۔ دوسرے سرکاری اداروں کی طرح عدلیہ بھی اخلاقی اور سماجی پستیوں کا شکار ہے۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان: ہر چیز بکتی ہے اور ہر موقعے پر، یہ بات ہمارے سول شعبوں نے سچ کر دکھائی ہے۔

صائمہ خان، کراچی، پاکستان: پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کا کردار بدترین رہا ہے اور اس کی کارکرگی سے صاف طاہر ہے کہ اس ادارے میں بدعنوانی کی جڑیں کس قدر مضبوط ہیں۔ لاہور کے واقعے سے واضح ہوگیا ہے کے اب ججوں کی علامتی عزت بھی نہیں رہی۔

امتیاز احمد، سعودی عرب: عدلیہ اور وکیلوں کاکوئی کردار نہیں، کردار پیسے کا ہے۔

اچھا اور بہترین وکیل
 اسی لئے تو یہ لطیفہ مشہور ہے کہ اچھا وکیل قانون کو جانتا ہے اور بہترین وکیل جج کو۔ یہ جھگڑا بھی آپس میں مال کی تقسیم پر ہے۔
کامران سجاد، گجرانوالہ

کامران سجاد، گجرانوالہ: ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اٹھانوے فیصد عدلیہ بدعنوان ہے اور وکیل اور جج مل کر کھاتے ہیں۔ اسی لئے تو یہ لطیفہ مشہور ہے کہ اچھا وکیل قانون کو جانتا ہے اور بہترین وکیل جج کو۔ یہ جھگڑا بھی آپس میں مال کی تقسیم پر ہے۔

عمران سیال، کراچی، پاکستان: وکیل بے چارے ہمیشہ انصاف کے لئے لڑتے رہتے ہیں کیوں کہ وہ ججوں کی طرح حکومت کے لاڈلے نہیں ہوتے۔

علی بھٹو، کینیڈا: عدلیہ پاکستان میں بکاؤ مال ہے، اسے کوئی بھی صحیح قیمت ادا کرکے خرید سکتا ہے۔

فہد میر، کراچی، پاکستان: قومیں کفر کے ساتھ رہ کر تو ترقی کر سکتی ہیں مگر بغیر انصاف کے نہیں۔ ہماری تباہی کی وجہ ناانصافی ہے اور اس میں ججوں اور وکیلوں کا ہاتھ برابر ہے۔

ظفر حسین، فیصل آباد، پاکستان: خوشی اس بات کی ہے کہ عوام پر ڈنڈے برسانے والی پولیس اور ججوں کی چھترول ہوئی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ وکیل اس طرح کے کام کر رہے ہیں۔

عابد عزیز، ملتان، پاکستان: انہوں نے ایک اچھا معاشرہ بنانے کی کبھی کوشش نہیں کی لیکن یہ ایک بہتر کردار ادا کرسکتے تھے اور کر سکتے ہیں۔

عافیہ خان، پاکستان: عدالتی نظام میں تمام قباحتیں برطانوی قوانین کی مرہونِ منت ہیں۔ گورے اپنے قوانین حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں مگر ہم اٹھارویں صدی میں ہی سر پھنسائے بیٹھے ہیں۔

مجیب الرحمان، جنوبی کوریا: شہباز شریف کے حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد حکومت نے جو کچھ کیا اور تاثر چھوڑا ہے اس سے یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ جب حکومت کو عدلیہ کی اتنی ہی پرواہ ہے تو دوسعوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔

ہریش کمار، جیکب آباد: جج حکومت کے ملاز م ہیں اور حکومت اپنے من پسند فیصلے ہی کرتی ہے۔

باقی کیا بچتا ہے؟
 ایک ایسا ادارہ بدعنوان ہوجائے جسے انصاف کرنا ہو تو باقی کیا بچتا ہے؟
صالح محمد، راوالپنڈی

صالح محمد، راولپنڈی: پاکستانی عدلیہ کا کردار انتہائی کمزور رہا ہے۔ پاکستان کی عدلیہ نے بہت سے فیصلے ایسے کئے جس کا نقصان پاکستان کو مجموعی طور پر اٹھانا پڑا۔ مثال کے طور پر بھٹو کیس، جنرل ضیاء کا مارشل لاء، پرویز مشرف کی حکومت کو قانونی ہونے سرٹیفیکیٹ دینا۔ ایک ایسا ادارہ بدعنوان ہوجائے جسے انصاف کرنا ہو تو باقی کیا بچتا ہے۔

نذیر احمد شیخ، پاکستان: جس طرح کا انصاف عدلیہ کرتی ہے اس کا بدلہ اس سے بھی بدتر ہوگا۔

محمد رضوان، لاہور: میرے خیال میں اگر ہمارا عدالتی نظام ٹھیک ہو جائے تو نوِ فیصد مسائل ویسے ہی حل ہوجائیں گے۔ چند جج پورے نظام کو خراب کر رہے ہیں۔ نظریہِ ضرورت نے ہم سب کو تباہ کر دیا ہے۔

چودھری محمد شفیق، شیخو پورہ، پاکستان: پاکستان میں عدلیہ کا کردار کبھی کبھی قابل ستائش نہیں رہا، پاکستان کی بڑی عدالتوں نے ہمیشہ حکومت کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

اختر محمد، بلجیئم: پاکستان میں جسٹِس سِسٹم سب سے برا ہے۔ سب اپنے مفاد کے لئے کام کررہے ہیں، کوئی تبدیلی نہیں لانا چاہتا۔

چودھری ناصر، ٹوکیو: میرے خیال میں پاکستان میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ آپ چھوٹی عدالتوں کی بات کرتے ہیں، عوام کا ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ پر سے اعتماد جاتا رہا ہے۔ اور اس کی وجہ پاکستان کے سیاست دان اور ملٹری ہیں۔

محمد شفیق، ٹورانٹو: جنرل، جرنلِسٹ اور جج کرپشن میں ملوث ہیں۔ ہمارے ملک میں ججوں کا کردار نہایت ہیں قابل نفرت رہا ہے۔ یہ لوگ ہر دور میں بکتے رہے ہیں۔

سعید خٹک، نوشہرہ: ہمارے وکلاء اور جج صاحبان جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنا ایک آسان کھیل سمجھتے ہیں۔

قاسم شیخ، حیدرآباد، پاکستان: یہ سب کے سب کالے کوٹ والے دل کے بہت کالے ہیں۔ یہ پہلے مسلمان تو بنیں، پھر ایک مسلمان ملک کی ترقی کا باعث بنیں گے۔ انہیں تو اپنی جیبیں بھرنے سے فرصت نہیں ہے۔ خدا انہیں ہدایت دے۔

طارق عزیز، جھنگ: جب سپریم کورٹ کے فیصلوں کا کوئی پاس نہیں۔

امان اللہ مری، بینگکاک: عدلیہ صحیح طریقے سے کام نہیں کررہی ہے۔ بیرونی قوتیں اس پر اثر انداز ہیں۔ عدالتوں میں بیرونی اثر ختم ہونی چاہئے۔ انصاف قوموں کے وجود کی بنیاد ہے اور ضرورت ہے کہ قابل اور ایماندار اشخاص کو اعلی عہدوں پر مقرر کیا جائے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد