BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 May, 2004, 19:56 GMT 00:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججوں کا وکلاء کے خلاف مقدمہ

وکیلوں اور پولیس کے درمیان تصادم(فائل فوٹو)
وکیلوں اور پولیس کے درمیان تصادم(فائل فوٹو)
لاہور میں وکیلوں اور ججوں کے درمیان تنازعہ سنگین شکل اختیار کر رہا ہے اور سیشن جج کی درخواست پر پولیس نے لاہور بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سمیت پچاس سے زیادہ وکلاء پر مختلف الزامات کے تحت دو مقدمات درج کرلیے ہیں۔

وکیلوں اور ججوں کی ایک لڑائی کے بعد لاہور کی ضلعی عدلیہ کے سو سے زیادہ ججوں نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

اسلام پورہ تھانہ کے محرر بشیر احمد نے بتایا کے دو الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ایک ایف آئی آر سیشن جج لاہور خلیل احمد کی شکایت پر اور دوسری ایس ایچ او اسلام پورہ پولیس کی طرف سے درج کی گئی ہے۔

ان دونوں ایف آئی آروں میں وکلا پر سرکاری املاک توڑنے اور سیشن جج کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزامات لگائے گۓ ہیں۔

محرر نے بتایا کہ ایک ایف آئی آر میں لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر مرزا حنیف بیگ سمیت چونتیس وکلا ملزم نامزد کیے گۓ ہیں اور دوسری میں بار ایسوسی ایشن کے مختلف عہدیداروں سمیت انیس وکلا نامزد کیے گۓ ہیں۔

پولیس کے مطابق اب تک کسی وکیل کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
ہے۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر مرزا حنیف بیگ کا کہنا ہے کہ وکلا گرفتاری سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں اور ہفتہ کی صبح پریس کانفرنس میں اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

وکلاء کے مشتعل ہجوم کو ججوں کے پاس جانے سے روکنے پر وکلاء نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس نے وکیلوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کی۔

جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے ایوانِ عدل میں ہونے والے اس ہنگامہ میں ایک ایس ایچ او اشرف چدھڑ سمیت کئی پولیس اہلکار اور جج زخمی ہوگئے تھے۔

سیشن جج خلیل احمد چودھری کی کار توڑ دی گئی ہے جبکہ عدالت کے کلرک آف کورٹ کا دفتر تباہ کردیا گیا ہے۔ کلرک آف کورٹ نے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔

جھگڑا جمعرات کو اس وقت شروع ہوا تھا جب ایک عدالتی مجسٹریٹ نواز گوندل نے دو وکیلوں کی ضمانت مسقتل کرنے سے انکار کیا۔ اس پر ججوں نے لاہور کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو ان کے کمرے میں بند کردیا اور وکلاء اور پولیس میں تصادم کے بعد لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احمد اویس کی مداخلت کے بعد سیشن جج کو رہائی ملی تھی۔

جعمہ کو وکلاء نے ہڑتال کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ سیشن جج کو کام نہیں کرنے دیں گے۔

دس بجے صبح لاہور بار ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا جس میں کہا گیا کہ وکلاء نے عدالت کا احترام کیا ہے لیکن ان کا تقدس پامال کیا جارہا ہے۔

دوسری طرف ججوں نے بھی آج عدالتی کام نہیں کیا۔

سو سے زیادہ وکلاء صبح دس بجے اپنے اجلاس کے بعد ہجوم کی شکل میں سیشن جج کے کمرے کی طرف بڑھے تو پولیس نے انہیں روکا اور ہنگامہ شروع ہوگیا۔

وکلاء نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کرکے وکلاء کو منتشر کیا۔

جوڈیشل ایسوسی ایشن کے صدر اعظم سرویا، ایڈیشن سیشن جج عابد حسین اور سینئر سِول جج مظفر شاہ نے اعلان کیا کہ جج ان حالات میں کام نہیں کرسکتے اور ان کے سربراہ کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ ان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مستعفی ہورہے ہیں۔ ان میں لاہور کے اڑتالیس سول جج، سینتیس عدالتی مجسٹریٹ اور ستائیس ایڈیشنل سیشن جج شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد