کاغذات نامزدگی منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں قومی اسمبلی کے قائد ایوان کے لیے سپیکر نے چوہدری شجاعت حسین اور مخدوم امین فہیم کے کاغذات نامزدگی قبول کر لیے ہیں۔ تاہم انہوں نے چوہدری شجاعت کے کاغذات نامزدگی پر پاکستان پیپلز پارٹی کا اعتراض مسترد کر دیا ہے۔ پیر کی صبح مسلم لیگ اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے چوہدری شجاعت حسین جبکہ اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی اے آر ڈی کے متفقہ امیدوار کے طور پر مخدوم امین فہیم نے کاغذات نامزدگی داخل کرائے تھے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے چودھری شجاعت
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قوانین کے مطابق کوئی شخص اپنے یا بیوی کے نام پر لیا گیا بیس لاکھ روپے یا اس سے زائد کا قرضہ معاف کرانے یا ڈیفالٹ کرنے کی صورت میں رکن اسمبلی کا اہل نہیں ہوتا، لہٰذا انہیں نا اہل قرار دیا جائے ۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر چودھری امیر حسین نے ان کا یہ اعتراض مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ قانون کے مطابق کوئی بھی رکن اسمبلی قائد ایوان کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرا سکتا ہے۔ قومی اسمبلی کے سیکریٹری محمود سلیم محمود کے مطابق قائد ایوان کے لئے دو امیدواروں چوہدری شجاعت حسین اور مخدوم امین فہیم کے درمیان مقابلہ ہوگا اور منگل کی شام کو طلب کردہ قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں انتخاب ہوگا۔ پیر کی صبح اے آر ڈی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ نواز نے جاوید ہاشمی کا نام واپس لے لیا اور اتفاق رائے سے مخدوم امین فہیم کے نام کی منظوری دے دی۔ حزب اختلاف کے ایک اور اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد نے مخدوم امین فہیم کی مشروط حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمٰن کو قائد حزب اختلاف تسلیم کرلے اور حدود آرڈیننس میں ترامیم کا بل واپس لے تو مجلس عمل امین فہیم کو ووٹ دینے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے قاضی حسین احمد کی مشروط پیشکش مسترد کردی ہے۔ ادھر متحدہ مسلم لیگ کے رہنما چوہدری شجاعت حسین نے اخباری کانفرنس میں بتایا کہ وہ تمام اتحادیوں کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ان کی نامزدگی کی حمایت کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کسی ایک بھی رکن نے ان کی مخالفت نہیں کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ تمام اتحادیوں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ جو کابینہ مستعفی ہونے والے وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے تحلیل کی تھی وہ ہی برقرار رکھی جائے اور وہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور مشاورت کے بعد ہی فیصلہ کریں گے۔ تاہم ان کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ چوہدری شجاعت حسین نے ایسی بات محض اتحادیوں سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے کی ہے ۔ انہوں نے اخبار نویسوں سے کہا کہ انہیں عارضی یا نگران وزیراعظم نہ لکھا جائے بلکہ صرف اور صرف وزیراعظم لکھا اور پکارا جائے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے مستقل وزیراعظم رہنے کا ارادہ کر لیا ہے؟ ان کا جواب تھا کہ ’ہرگز نہیں‘ اور ان کے بقول جیسے ہی شوکت عزیز رکن اسمبلی منتخب ہوجائیں گے تو وزارت اعظمیٰ انہیں سونپ دیں گے۔ اس موقع پر شوکت عزیز بھی موجود تھے اور چوہدری شجاعت حسین نے بتایا کہ انہیں رکن اسمبلی بنانے کے لیے فاٹا اور چاروں صوبوں سے پارٹی کے بیشتر اراکین اسمبلی نے نشستیں خالی کرنے کی پیشکش کی ہے اور وہ ابھی اس پر غور کر رہے ہیں کہ کس صوبے سے وہ ضمنی انتخاب میں حصہ لیں۔ متحدہ مسلم لیگ کے امیدوار نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ان کے حامی تمام اراکین اسمبلی سے مشاورت کے بعد وزیراعظم ظفراللہ جمالی کی جگہ ان کا ( چودھری شجاعت ) نام تجویز کیا جو کہ ان کے لئے تعجب کی بات ہے۔ جب ان سے بی بی سی نے دریافت کیا کہ صدر مملکت کو مسلم لیگ کے معاملات کا فیصلہ کرنے کا اختیار کس قانون کے تحت حاصل ہے تو انہوں نے کہا کہ صدر مملکت پارلیمینٹ کا حصہ ہیں اور وہ مسلم لیگ کو مشورہ دے سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||