BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 June, 2004, 11:27 GMT 16:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حزب اختلاف کا احتجاجی مارچ

منور سہروردی کے قتل کے خلاف مظاہرے میں خواتین نے بھی حصہ لیا
منور سہروردی کے قتل کے خلاف مظاہرے میں خواتین نے بھی حصہ لیا
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما منور سہروردی کے قتل کے خلاف سنیچر کے روز متحدہ حزب اختلاف کی جانب سے پارلیمینٹ لاجز سے پارلیمینٹ ہاؤس تک احتجاجی جلوس نکالا گیا۔

جلوس میں پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

منور سہروردی کے قتل کے خلاف پیپلز پارٹی کی جانب سے تین روز تک سوگ کے سلسلے میں نکالے گئے جلوس کی قیادت اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے چیئرمین مخدوم امین فہیم نے کی۔

جلوس میں شامل مرد اور خواتین اراکین پارلیمینٹ منور سہروردی کے قتل کے خلاف سخت نعرہ بازی کر رہے تھے جس میں ’لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی‘ اور ’ کرنل جنرل کی سرکار نہیں چلے گی‘ جیسے نعرے شامل تھے۔

اس موقعہ پر مخدوم امین فہیم کا اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں اور کسی کو انصاف بھی نہیں مل رہا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت فوری طور پر حالات ٹھیک کرے یا اقتدار چھوڑ دے۔

متحدہ مجلس عمل کے رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارلیمینٹ کے اندر احتجاج کیا لیکن حکومت نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور وہ مجبور ہو کر سڑکوں پر آئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے سہروردی کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا تو متحدہ حزب اختلاف تحریک چلائے گی۔

احتجاجی جلوس کے دوران مجلس عمل کے اراکین نے قبائلی علاقوں میں پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے بھی نعرے بلند کیے۔

جلوس کے شرکاء پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے بھی نعرے لگاتے رہے جس کے بعد وہ اجلاس میں شرکت کے لیے چلے گئے۔

اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

واضع رہے کہ پارلیمینٹ ہاؤس کے ارد گرد دفعہ 144 نافذ ہے جس کے مطابق جلوس جلسہ کرنے پر پابندی ہے لیکن متعلقہ تھانہ سیکریٹریٹ کے محرر کے مطابق تاحال دو روز سے جلوس نکالنے اور مظاہرہ کرنے پر پیپلز پارٹی کے اراکین کے خلاف پرچہ درج نہیں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد