BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 May, 2004, 12:30 GMT 17:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایٹم بم: بحث سے انکار پر احتجاج
ڈاکٹر قدیر
متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے ارکان ڈاکٹر عبدالقدیر کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے تھے
پاکستان میں چھ سال پہلے کئےگئے ایٹمی دھماکوں پر نواز شریف اور ڈاکٹر عبدالقدیر کو خراج تحسین پیش کرنے کے اجازت نہ ملنے پر اے آر ڈی کی رکن جماعتوں اور متحدہ مجلس عمل نے جمعہ کے روز پنجاب اسمبلی میں احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

مسلم لیگ(ن) آج ملک بھر میں ایٹمی دھماکوں کی یاد میں یوم تکبیر منا رہی ہے اور اس کے ارکان اسمبلی نے اس موقع پر ایک کیک بھی کاٹا۔

مسلم لیگ(ن) انیس سو اٹھانوے میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے دور میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر نواز شریف کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتی تھی جس کی اجازت نہ ملنے پر مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی ایوان سے واک آؤٹ کرگئیں۔

دوسری طرف متحدہ مجلس عمل کے ارکان ایٹمی سائنسدان اور پاکستان کے ایٹم بم کے خالق تصور کیے جانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات پر بات کرنا چاہتے تھے لیکن اجازت نہ ملنے پر احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔

اجلاس کی کارروائی شروع ہوتے ہی مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی رہنما رانا ثناءاللہ نے کہا کہ آج ایک با برکت دن ہے کیونکہ اس روز پاکستان دنیا کے نقشہ پر ایک ایٹمی طاقت کے طور پر ابھرا۔

مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ پوری قوم نواز شریف کو خراج تحسین پیش کررہی ہے جبکہ ہم ذوالفقار علی بھٹو کے شکر گزار ہیں جنھوں نے ایٹمی پروگرام شروع کیا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پوری قوم نے ڈاکٹر عبدلقدیر خان کو ہیرو بنایا لیکن حکمرانوں نے انھیں زیرو بنانے کی کوشش کی۔ انھوں نے اسپیکر سے کہا کہ آج اس موضوع پر بات کرنی چاہیے۔

حکومت کی طرف سے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ ہمیں ان لوگوں کی بات بھی کرنی چاہیے جن کی وجہ سے آج ایٹمی پروگرام قائم ہے اور صدر پرویز مشرف نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ نواز شریف بے نظیر بھٹو کو سکیورٹی رسک قرار دیتے تھے اور آج اُن کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس پر بھی حزب اختلاف شیم شیم کہے تو ہم ان کا ساتھ دیں گے۔

صوبائی وزیر کی اس تنقید سے ایوان میں شور مچ گیا اور دونوں جانب سے ارکان کھڑے ہوکر چیخنے چلانے لگے اور سپیکر کے سوا تمام کے مائیک بند کردیے گئے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے ارکان واک آؤٹ کرگئے۔

اے آر ڈی کے ارکان کے جاتے ہی متحدہ مجلس عمل کے ارکان نے سپیکر سے مطالبہ کیا کہ اس معاملہ میں ڈاکٹر عبدلقدیر خان کی خدمات پر بات ہونی چاہیے لیکن اسپیکر نے انھیں اس کی اجازت نہیں دی جس پر وہ بھی ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد