خانہ بدوش لڑکیوں کے ساتھ زیادتی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شادی بیاہ پر گانے بجانے کے ذریعےگزر بسر کرنے والی دو خانہ بدوش خواتین کو، جنہیں عرفِ عام میں ’گڑوی والی‘ کہا جاتا ہے، مُبینہ طور پر ملتان میں پولیس کے کچھ اہلکاروں نے اجِتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے ـ اس سلسلے میں نامعلوم افراد کے خلاف حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج ہو گیا ہے۔ زیادتی کا نشانہ بننے والی اٹھارہ سالہ شازیہ اُور اُس کی تیس سالہ شادی شدہ رشتہ دار تبّسم کے وکیل ارشد گُجر نے الزام لگایا ہے کہ دونوں خواتین سے نیو ملتان پولیس اسٹیشن میں زیادتی کی گئی ہے۔ شازیہ ‘ تبّسم اُور اُن کی ساتھی کوثر اُور زرینہ گزشتہ روز ملتان کے نواحی علاقہ سمیجہ آباد میں شادی کی ایک تقریب سے واپس لوٹ رہی تھیں کہ نِصف شب ایک سرکاری گاڑی پر سوار چند باوردی پولیس اہلکاروں نے اُنہیں روکا۔ چند سوالات کرنے کے بعد اہلکاروں نے خانہ بدوش فنکاراوُں کو ساتھ چلنے کا حکم دیا۔ اِنکار کرنے پر اہلکاروں نے مبینہ طور پر شازیہ اُور تبّسم کو زبردستی سرکاری گاڑی میں بٹھایا جبکہ کوثر اُور زرینہ کو وہیں چھوڑ دیا۔ شازیہ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے اُن کی آنکھوں پر پٹی باندھی اُور ایک نامعلوم مقام پر لے جا کر زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس شروع میں مقدمہ درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتی رہی ـ لیکن جب ایک عدالتی حکم پر قائم ہونے والے میڈیکل بورڈ نے تصدیق کی کہ دونوں خواتین کو تشدد اُور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے تو نیو ملتان پولیس نے چھ نامعلوم اہلکاروں کے خلاف حدود آرڈیننس کی دفعہ 10(4)/7/79 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے ـ ملتان کے ضلعی پولیس افسر حامد مختار گوندل کہنا ہے کہ ابِتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے نہیں آئی کہ خواتین کو تھانے میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انُہوں نے کہا کہ جو بھی اِس واقعہ میں قصوروار ہُوا اُس کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ نِشتر ہسپتال میں داخل شازیہ نے بتایا کہ اُس سے زیادتی کرنے والے تمام افراد پولیس کی وردی میں تھے۔ پولیس حُکام نے ایک سب اِنسپکٹر محمد ایوب کو اِس واقعہ میں غفلت برتنے پر معطل کر دیا ہے۔ معلوم ہُوا ہے کہ شازیہ اُور تبّسم کی ساتھیوں کوثر اُور زرینہ نے پولیس ایمرجنسی پر واقعہ کی بروقت اطلاع کر دی تھی۔ تاہم انسپکٹر ایوب نے نہ تو خود کوئی کاروائی کی اُور نہ ہی محکمہ کے اعلیٰ حُکام کو اِس واقعہ سے آگاہ کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||