سلینڈر پھٹنے سے کوئٹہ خوفزدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں خوف کا عالم یہ ہے کہ ایک سلنڈر کے پھٹنے سے بھگدڑ مچ گئی جس سے دکانیں اور کاروباری مراکز آناً فاناً بند ہو گئے، ٹریفک جام ہوگئی اور لوگ پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ دو مارچ کو عاشورہ کے ماتمی جلوس پر حملے اور اس کے بعد فسادات کے نتیجے میں املاک کی تباہی کا خوف تاحال کوئٹہ کے شہریوں میں پایا جاتا ہے۔ جمعرات کو انتظامیہ کی طرف سے کرفیو میں وقفے کے دورانیے میں اضافے کا اعلان کیا گیا جو صبح چھ بجے سے رات دس بجے تک رہے گا لیکن فرنٹیئر کور، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پولیس کے دستے شہر میں گشت کرتے رہے۔ جمعرات کو عام تاثر یہی رہا کہ شہر میں حالات معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ دکانیں اور کاروباری مراکز کھلنا شروع ہو رہے تھے، تباہ حال دکانوں پر لوگوں نے مرمت کا کام بھی شروع کروا دیا اور لوگ خریداری کے لئے بازاروں کی طرف آنا شروع ہو گئے۔ سکول کالج کھل رہے ہیں مزدور روزگار کے حصول کے لیے موجود ہیں اور امن کے قیام کے لیے کئے گئے اقدامات اپنا رنگ دکھا رہے ہیں۔ لیکن جمعرات کی دوپہر اچانک آرچرڈ روڈ پر ایک پکوڑے والی دکان پر پڑا سلنڈر ایک دھماکے سے پھٹ گیا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ سلنڈر پھٹنے کی دیر تھی کہ شہر میں ایسی بھگدڑ مچی کہ لوگوں کو کچھ اور نہیں سوجھ رہا تھا سوائے اپنی اور اپنے بچوں کی جان بچانے کے۔ آرچرڈ روڈ شہر کے کاروباری مراکز، عبدالستار روڈ اور لیاقت بازار کے قریب واقع ہے اور یہ تقریباً وہی علاقہ ہے جہاں ماتمی جلوس پر حملہ ہوا تھا اور فسادات ہوئے تھے۔ خواتین، بچے، بوڑھے اور جوان بدحواسی کے عالم میں بھاگ رہے تھے اور دکانداروں نے شٹر گرانا شروع کردیئے جس سے لوگوں کے خوف میں اضافہ ہو گیا۔ جن لوگوں کے پاس گاڑیاں تھیں انہوں نے ٹریفک کے اصولوں کا خیال کئے بغیر جو راستہ نظر آیا، اس پر گاڑی بھگا دی۔ اس وقت سکولوں کی چھٹی ہو رہی تھی جس سے بھگدڑ اور لوگوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔ ٹریفک جام ہوگئی، بازار مکمل طور پر بند ہوگئے اور پھر تھوڑی دیر بعد شہر میں خاموشی چھا گئی جیسے شہر میں کوئی بستا ہی نہ ہو۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد لوگوں کو علم ہو گیا کہ یہ ہنگامہ محض ایک سلنڈر کے پھٹنے سے برپا ہوا تھا۔ انتظامیہ اور ماہرین کے مطابق لوگ سولہ روز گزرنے کے باوجود ماتمی جلوس پر حملے اور اس کے بعد شروع ہونے والے فسادات کو بھول نہیں پائے ہیں اور شاید آئندہ کچھ ہفتوں اور مہینوں تک یہ واقعات ان کے ذہنوں پر حاوی رہیں گے۔ یہ لوگ معمولی سی آواز یا شور سے اس قدر خوفزدہ ہو جائیں گے، ثابت کرتا ہے کہ اس شہر میں امن کا راج رہا ہے اور یہاں ایسے واقعات کبھی رونما نہیں ہوئے اور اسی وجہ سے لوگ یہ واقعہ بھلا نہیں پا رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||