| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف سے ملاقات، واجپئی تیار
بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے کہا ہے کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ بات چیت کب اور کہاں ہو گی۔ صرف پاکستان ٹیلی ویژن کو دیئے جانے والے انٹرویو میں انہوں کہا ہے کہ دہلی یہ سمجھتا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ پاکستان سے اس معاملے پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ صدر مشرف کے ساتھ کاروبار کرنے یا پاکستانی رہنماؤں سے جموں و کشمیر کے تنازع پر بات چیت کرنے میں کوئی برائی محسوس نہیں کرتے۔ انہوں نے کشمیر کے بارے میں اپنے موقف کی دو ٹوک وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں اور ٹھیک طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ جموں اور کشمیر بھارت کا حصہ ہیں۔‘ تاہم انہوں نے پھر کہا کہ اس کے باوجود وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس معاملے پر پاکستان سے بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس عمل کو شروع ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ پاکستان اس ہمالیائی خطے کو متنازع قرار دیتا ہے اور صدر مشرف اس سے پہلے اس بارے میں کہہ چکے ہیں کہ دہلی اور اسلام آباد کو اس معاملے میں لچک کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ اسلام آباد روانہ ہونے سے پہلے بھارتی وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ اپنے ہم منصب سے ہی ملاقات کریں گے۔ تاہم اب انہوں نے کہا ہے کہ صدر مشرف ہی ہیں جن سے انہیں بات چیت کرنی ہو گی۔ بھارتی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونی رپورٹوں کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ مشرف صاحب سے ہماری بات چیت ہو سکتی ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||