’نفرت میں ڈھلتے محبت کے رشتے‘

بی بی آسیہ کے بقول وہ تو کسی صورت شوہر کے ہمراہ افغانستان نہیں جائیں گی اور یہی خیالات ان کے بچوں کے بھی ہیں
،تصویر کا کیپشنبی بی آسیہ کے بقول وہ تو کسی صورت شوہر کے ہمراہ افغانستان نہیں جائیں گی اور یہی خیالات ان کے بچوں کے بھی ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

بی بی آسیہ کا تعلق خیبر پختونخوا کے ایک جنوبی ضلع سے ہے۔ انھوں نے چوبیس سال قبل ایک افغان مہاجر سے شادی کی اور ان کے اب چھ بچے بھی ہیں۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ زندگی کے کسی موڑ پر یہ رشتہ ان کے لیے کبھی پریشانی کا سبب بھی بن سکے گا۔

٭ <link type="page"><caption> ’افغان پناہ گزینوں کے ساتھ زبردستی نہیں ہوگی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160811_imran_afghan_delegation_meeting_rwa" platform="highweb"/></link>

ان کا کہنا ہے کہ ان جیسی کئی پاکستانی بیویاں اپنے شوہروں کے ہمراہ افغانستان جانے کےلیے کسی صورت تیار نہیں۔ ’میرے تمام بچے یہاں پیدا ہوئے اور یہاں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ وہ تو خود کو افغان سمجھتے بھی نہیں بلکہ محلے میں اگر کوئی انہیں افغان مہاجر کہے تو وہ اس کا برا مناتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ تو کسی صورت شوہر کے ہمراہ افغانستان نہیں جائیں گی اور یہی خیالات ان کے بچوں کے بھی ہیں۔

بی بی آسیہ کے مطابق ’میں کئی ایسی پاکستانی خواتین کو جانتی ہوں جنہوں نے افغان مہاجروں سے شادی کی ہے ان میں کوئی بھی افغانستان جانے کےلیے تیار نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کا یہاں خاندان ہے بھائی بہنیں ہیں ان کو چھوڑا کر وہ کیسے سرحد پار آباد ہوسکتی ہے۔

پاکستان اور افغانستان تمام تر اختلافات کے باوجود پڑوسی ممالک ہونے کے ناطے عرصہ دراز سے مضبوط مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ تاہم اس قربت میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب روس کی طرف سے افغانستان پر حملے کے نتیجے میں لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان ہجرت کرکے یہاں مختلف شہروں میں آباد ہوئے۔

حالیہ دنوں میں ایسی کئی پاکستانی خواتین کو طلاق ہوچکی ہے جو شوہروں کے ہمراہ سرحد پار جانے پر راضی نہیں تھیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنحالیہ دنوں میں ایسی کئی پاکستانی خواتین کو طلاق ہوچکی ہے جو شوہروں کے ہمراہ سرحد پار جانے پر راضی نہیں تھیں

ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب ایک ہی رنگ و نسل کے پشتون قبیلے کے آباد ہونے کی وجہ سے پہلے بھی سرحد کے دونوں جانب رشتے قائم تھے لیکن پناہ گزینوں کے یہاں آنے سے اس میں مزید اضافہ ہوا۔

تاہم حکومت کی طرف سے تمام مہاجرین اگلے سال مارچ کے مہینے تک پاکستان چھوڑنے کے فیصلے سے ایسے خاندانوں کے مشکلات بڑھتی جارہی جن کے آپس میں کئی دہائیوں سے رشتہ داریاں قائم ہیں۔

حکومت پاکستان پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ ایسے افغان پناہ گزینوں کو شہریت نہیں دی جائے گی جن کی بیویاں پاکستانی ہوں جبکہ یہی فارمولہ ان کہ بچوں کےلیے بھی اپنایا گیا ہے۔

پشاور کے دانش آباد کے علاقے میں کئی افغان پناہ گزین خاندان رہ رہے ہیں۔ گذشتہ 30 برسوں سے یہاں آباد افغان شہری نقیب اللہ مختار کا کہنا ہے کہ ان کے محلے میں کئی ایسے پاکستانی اور افغان خاندان موجود ہیں جن کے آپس میں رشتے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ رشتے بظاہر اس لیے قائم ہوئے تھے تاکہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے قریب آسکے لیکن اب یہ رشتہ داریاں نفرت میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔

افغان پناہ گزینوں سے شادی کرنے والی پاکستانی خواتین نے اپنے شوہروں کو پاکستانی شہریت دینے کے حق میں احتجاج کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے
،تصویر کا کیپشنافغان پناہ گزینوں سے شادی کرنے والی پاکستانی خواتین نے اپنے شوہروں کو پاکستانی شہریت دینے کے حق میں احتجاج کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے

ان کے بقول ’ہمارے محلے میں ایک افغان مہاجر نے اپنی پاکستانی بیوی اور بچوں کو چھوڑ کر افغانستان چلا گیا ہے کیونکہ ان کی بیوی بچے ان کے ساتھ جانے کےلیے تیار نہیں تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایسی کئی پاکستانی خواتین کو طلاق ہوچکی ہے جو شوہروں کے ہمراہ سرحد پار جانے پر راضی نہیں تھیں۔ ان کے مطابق ’ یہ مسلہ اب اتنا سنگین ہوتا جارہا ہے کہ اس سے دونوں جانب مزید نفرت بڑھنے کا امکان ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کو اس مسلئے کے فوری حل کےلیے کوئی باعمل طریقہ کار تلاش کرنا چاہیے تاکہ ان رشتوں کو نفرت میں تبدیل ہونے سے بچایا جاسکے۔

افغان پناہ گزینوں سے شادی کرنے والی پاکستانی خواتین نے اپنے شوہروں کو پاکستانی شہریت دینے کے حق میں احتجاج کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے۔ تین دن پہلے کئی پاکستانی بیویوں نے بچوں کے ہمراہ پشاور پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستانی ہیں لہذا ان کے شوہر اور بچوں کو بھی پاکستانی شہریت دی جائے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حکومتوں کی سطح پر تعلقات پہلے ہی سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں لیکن اب بظاہر لگتا ہے کہ دونوں ممالک کا ایسےمنقسم خاندانوں کے متعلق کوئی واضح پالیسی نہ ہونے کے باعث یہ نفرت عوامی سطح پر بھی بڑھی گی۔