ٹی وی کے ٹیکے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

    • مصنف, صہیب جمالی
    • عہدہ, کالم نگار

کیا کہا، آپ کہ گھر پہ ٹی وی نہیں ہے؟

’ہاں بلکل نہیں، کوئی چار پانچ سال ہو گئے، ٹی وی رکھا ہی نہیں‘۔

یعنی آپ اکیسوی صدی میں نہیں رہتے؟ رانا صاحب نے بہت حیران کن شکل پر واجبی سی مسکراہٹ رکھ کے مجھ پہ طنز کیا۔

اس سے پہلے اتنی حیرانی سے مجھے بیس سال قبل کسی نے دیکھا تھا۔

مجھے یاد ہے یہ کوئی بانوے چورانوے کی بات ہو گی، میں نانی کے گھر کے کار پورچ میں سائیکل چلا رہا تھا کہ ٹی وی لائسنس والے نے دروازے پہ دستک دی۔ اس زمانے میں ٹی وی لائسنس فیس گھر گھر آ کر کلیکٹ کی جاتی تھی۔ کہنے لگا بیٹا جاؤ کسی بڑے کو بتاؤ کہ ٹی وی لائسنس والا آ یا ہے۔ میں نے معصومیت سے کہا انکل ٹی وی ہی نہیں ہے اس گھر میں تو۔ وہ بہت سٹپٹیا، ماننے ہی کو نہ تیار۔ کہنے لگا بیٹا جھوٹ نہ بولو۔

میں نے ذرا سخت آواز میں دوبارہ کہا بھائی ٹی وی نہیں ہے اس گھر میں۔ پھر بھی وہ نہ مانا۔ بالآخر اس نے غصّے میں آ کے تین چار دفعہ گھر کی گھنٹی بجائی ڈنگ ڈونگ ، ڈنگ ڈونگ ، ڈنگ ڈونگ۔ ظاہر ہے ماموں تلملاتے ہوئے دروازے پر آئے۔ ’میاں یہ کوئی شریفوں کا طریقہ ہے گھنٹی بجانے کا‘۔

جب معاملے کا پتا چلا تو ماموں مزید گرم ہوئے۔ ’یہ بچہ جھوٹ تھوڑا کہہ رہا ہے، ٹی وی نہیں ہے ہمارے یہاں‘۔ کلکٹر بیچارہ آگ بگولا ہوئے بڑبڑا تے ہوئے چلتا بنا کہ بڑی بڑی کوٹھیوں میں بڑے بڑے کنجوس رہتے ہیں۔

بہرحال پچھلے چار پانچ سالوں میں مجھے بھی کئی بار کنجوس کہا گیا۔ ملا بھی کہا گیا، طالبان بھی، روکھا اور کھڑوس بھی۔ بعض نے کہا کُول اور بعض نے انٹلیکچوئل، جبکہ بعض نے یہ کہا کہ واننا بی کُول نہ بنو۔ یہ بھی کہا گیا کہ اپنے پیشے کہ ساتھ بد دیانتی کر رہے ہو کیوں کہ بطور معاشی و تجارتی کالم نگار ٹی وی دیکھنا تو بے حد ضروری ہے۔

،تصویر کا ذریعہPak Ramzan

اور ہر بار میں اپنی صفائی پیش کرتا کہ بھائی ان میں سے میں کچھ بھی نہیں۔ ایک سادہ انسان ہوں اور فقط چند باتوں پہ یقین رکھتا ہوں۔

اک تو یہ کہ بجائے اس کے کہ ڈرامے دیکھتا رہوں، اچھا نہ ہوگا کہ میں ریل لائف ڈرامے کا بھر پور حصّہ بنوں۔

دوستوں سے ملوں، گھر والوں سے ملوں، پڑوسی سے ملوں، ان سے گپ شپ لگاؤں، ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوں، ان سے لڑائی بھی کروں اور معافی تلافی بھی اور بسا اوقات رکشے والے، دودھ والے، سبزی والے سے بھی گپ لگاؤں کہ بھائی تیری زندگی کا ڈرامہ کیا چل رہا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ آج کل نوجوان سیاسی طور پہ بیدار ہو رہے ہیں۔ مگر یہ ایسی صبح ہے کہ جس میں نجم سیٹھی کی چڑیا نے رات کو جو جو باتیں کیں، نوجوان انہی باتوں کو محفلوں میں ایسے بیان کرتیں ہیں کہ جیسے وہ چڑیا نجم سیٹھی کی نہیں، ان کی اپنی ہے۔

تجزیہ کاروں کی رائے کا رٹّا لگا لگا کر ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے پچھلے ایک ہفتے سے یہ نوجوان پاکستان کی سیاسی تاریخ اور پولیٹیکل سائنس کی کتابوں میں غوطہ لگانے کے ساتھ ساتھ روزانہ پانچ چھ اخبارات کا بھی مطالعہ کر رہے تھے۔ نفسیاتی طور پر ان عادتوں کا اثر یہ ہوتا ہے کہ حقیقی پولیٹیکل اینگیجمنٹ سے انسان اپنے آپ کو مستثنیٰ سمجھنے لگتا ہے کیوں کہ بھئی اب ساری معلومات اور رائے جمع کر کہ اپنی سماجی ذمہ داریاں پوری کر لیں، اب حرکت کی کیا ضرورت۔

تیسری بات یہ کہ معلوماتی شکر پاروں کو کھا کھا کہ بصیرت نہیں آتی۔ ٹی وی اور میگزین نالج انسان کے دماغ کو معلوماتی شکر پاروں سے بھرا تھیلا بنا دیتا ہے، اور لوگ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہم گویا دانا بن گئے ہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ ضرورت سے زیادہ معلومات حاصل کر کے الٹا دماغی بدہضمی ہو جاتی ہے اور ٹی وی اس بدہضمی کا اولین سبب ہے۔ اسی لیے میں سجھتا ہوں کہ اپنے پیشے سے دیانت کے لیے بے حد ضروری ہے کہ ٹی وی نہ دیکھوں۔ کاش ٹی بی کی طرح ٹی وی کے ٹیکے بھی بچپن ہی میں لگ جاتے تو کتنا اچھا ہوتا۔

رانا صاحب نے میری پرجوش تقریر کے اختتام پر ایک اختلافی سا چہرہ بناتے ہوے کہا، مگر جمالی صاحب آپ تو اخبار بھی نہیں پڑھتے۔

’اوے! آ ہستہ بولو ، کہیں باس کو نہ پتا چل جائے‘۔