سامعہ قتل کیس: والد اور سابق شوہرگرفتار

،تصویر کا ذریعہFAMILY PHOTO
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع جہلم کی پولیس نے پاکستانی نژاد برطانوی خاتون سامعہ شاہد کے قتل کے مقدمے میں مقتولہ کے والد اور پہلے شوہرکو گرفتار کر لیا ہے۔
اس سے قبل عدالت نے مقتولہ کے پہلے شوہر کی ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ کر دی تھی۔
سامعہ قتل کے اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی پولیس کی ٹیم نے ایڈیشنل سیشن جج سجاد افصل کی عدالت میں سنیچر کو بیان دیا کہ اس مقدمے میں مقتولہ کے والد شاہد کو بھی نامزد کیا گیا ہے اس لیے انھیں ملزم سے تفتیش کرنی ہے۔
پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ ملزم شاہد کو اس مقدمے میں باقاعدہ طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ ملزم شاہد نے سامعہ شاہد کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد سب سے پہلے مقامی تھانے میں رپورٹ درج کروائی تھی کہ ان کی بیٹی نے ’خودکشی‘ کر لی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس حکام نے مقتولہ کے پہلے خاوند محمد شکیل کی ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ کرنے کے لیے عدالت سے استدعا کی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
ملزم شکیل سنیچر کو بھی عدالت میں پیش نہیں ہوا اور گذشتہ سماعت کے دوران بھی عدالت نے ملزم کی عدم موجودگی کے باوجود اس کی ضمانت قبل از گرفتاری میں ایک ہفتے کی توسیع کر دی تھی۔
عدالت نے ملزمان شاہد اور شکیل کی جانب سے انھیں حبس بے جا میں رکھنے کی درخواست بھی مسترد کردی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دونوں ملزمان مقامی پولیس کی تحویل میں ہیں لیکن وہ اُنھیں سامنے نہیں لا رہی ہے۔
درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ پولیس انھیں پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے لاہور لے کر گئی تھی اور اس کے بعد یہ دونوں ملزمان منظر عام پر نہیں آئے۔
اس مقدمے کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزم شاہد کو جمسانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے جب کہ دوسرے ملزم شکیل کو بھی جلد ہی عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔
مقتولہ سامعہ شاہد کی فرنزک رپورٹ بھی پولیس کو موصول ہوگئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی خاتون کی موت دم گھٹنے سے ہوئی۔







