سامعہ کیس:’والدہ اور بہن تفتیش میں بےگناہ ثابت‘

،تصویر کا ذریعہkazam
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے ضلع جہلم میں پاکستانی نژاد برطانوی خاتون سامعہ شاہد کے مبینہ قتل کے مقدمے میں پولیس نے دو نامزد ملزمان کو بےگناہ قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ وقوعہ کے وقت ان دونوں کی جائے حادثہ پر موجودگی کے ثبوت نہیں ملے۔
پولیس کی طرف سے مبینہ طور پر بےگناہ قرار دیے جانے والوں میں سامعہ کی والدہ امتیاز بی بی اور ان کی بہن مدیحہ شاہد شامل ہیں۔
٭ <link type="page"><caption> برطانوی خاتون کی ہلاکت، والد اور رشتہ دار زیرِ حراست</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/07/160727_samia_death_mystery_arrests_zs" platform="highweb"/></link>
جہلم کی پولیس کے مطابق یہ دونوں خواتین 28 سالہ سامعہ شاہد کے قتل کے وقت پاکستان میں موجود نہیں تھیں اور جس وقت پولیس کو جب اس واقعہ کے بارے میں معلومات ملیں تو دونوں ماں بیٹیاں انگلینڈ پہنچ چکی تھیں۔
مقامی پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق اس کی تصدیق ایف آئی اے کے ریکارڈ سے کی گئی ہے جس کے مطابق امتیاز بی بی اور مدیحہ شاہد 18 جولائی کو بیرون ملک جا چکی تھیں جبکہ سامعہ کی موت 20 جولائی کو ہوئی ہے۔
سامعہ کے دوسرے شوہر مختار کاظم نے اپنی بیوی کے مبینہ قتل کے مقدمے میں جن پانچ ملزمان کو نامزد کیا تھا ان میں مذکورہ خواتین کے علاوہ سامعہ کے والد، ان کے کزن مبین اور ان کے پہلے شوہر شکیل شامل ہیں۔
سب ڈویژنل پولیس افسر منگلا ڈی ایس پی شاہد صدیق نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں نامزد پانچویں ملزم شکیل کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش کے بعد اس مقدمے کی تحقیقات آگے بڑھیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی عدالت نے ملزم شکیل کو چھ اگست تک ضمانت قبل از گرفتاری دے رکھی ہے جبکہ سامعہ کے والد اور کزن مبین پولیس کی حراست میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہkazam
ڈسٹرکٹ ہسپتال جہلم سے جاری ہونے والی سامعہ شاہد کی ابتدائی پوسٹمارٹم کی رپورٹ کے بارے میں شاہد صدیق نے کہا کہ ڈاکٹر نے مقتولہ کی گردن پر زخم کے نشان کا ذکر تو ضرور کیا ہے لیکن اسے موت کی وجہ قرار نہیں دیا۔
شاہد صدیق کا کہنا تھا کہ مقتولہ کے منہ سے جھاگ بھی نکل رہا تھا جس سے اس کی موت زہر دینے سے بھی ہو سکتی ہے۔
تاہم اُن کے مطابق سامعہ کے والد شاہد نے جو اس مقدمے میں نامزد ملزم بھی ہیں، پولیس کو بتایا تھا کہ سامعہ کو مرگی کے دورے بھی پڑتے تھے اور ایسے مریض کے منہ سے بھی جھاگ نکلتی ہے۔
ایس ڈی پی او کا کہنا تھا کہ فارینزک رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آسکے گی۔ اُنھوں نے بتایا کہ یہ رپورٹ آئندہ دو سے تین دن میں پولیس کو موصول جائے گی۔
خیال رہے کہ سامعہ شاہد نامی 28 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی خاتون کی موت رواں ماہ کی 20 تاریخ کو پاکستان کے ضلع جہلم میں ان کے آبائی گاؤں پنڈوری میں واقع ہوئی تھی۔
پاکستان کے وزیرِ داخلہ چودہری نثار علی خان نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام کو اپنی نگرانی میں معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرنے قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے جلد از جلد تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق پاکستانی نژاد برطانوی خاتون سامعہ شاہ کے سابقہ شوہر چوہدی محمد شکیل نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی ہے۔
ضلع جہلم میں تھانہ منگلا کے ایس ایچ او محمد عقیل نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس چوہدری محمد شکیل کا بیان ریکارڈ کرے گی۔







