سامعہ کیس، سابقہ شوہر کی ضمانت قبل از گرفتاری

،تصویر کا ذریعہkazam
پولیس حکام کے مطابق پاکستانی نژاد برطانوی خاتون سامعہ شاہ کے سابقہ شوہر چوہدی محمد شکیل نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی ہے۔
ضلع جہلم میں تھانہ منگلا کے ایس ایچ او محمد عقیل نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس چوہدری محمد شکیل کا بیان ریکارڈ کرے گی۔
خیال رہے کہ سامعہ شاہد نامی 28 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی خاتون کی موت رواں ماہ کی 20 تاریخ کو پاکستان کے ضلع جہلم میں ان کے آبائی گاؤں پنڈوری میں واقع ہوئی تھی۔
٭ <link type="page"><caption> برطانوی خاتون کی ہلاکت، والد اور رشتہ دار زیرِ حراست</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/07/160727_samia_death_mystery_arrests_zs" platform="highweb"/></link>
اس سے قبل پاکستان کے ضلع جہلم میں پولیس نے سامعہ شاہد کے قتل کے الزام میں ان کے والد اور ایک قریبی رشتہ دار کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی تھی۔
پاکستان کے وزیرِ داخلہ چودہری نثار علی خان نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام کو اپنی نگرانی میں معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرنے قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے جلد از جلد تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔
سامعہ کے شوہر مختار کاظم نے الزام عائد کیا تھا کہ سامعہ کے گھر والوں نے انھیں خاندان سے باہر شادی کرنے کی وجہ سے قتل کیا ہے اور انھوں نے اس مقدمے میں سامعہ کے والدین، بہن اور ایک کزن کو نامزد کیا ہے۔
تھانہ منگلا کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ شاہد اور مبین نامی ملزمان کو بدھ کو حراست میں لیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق سامعہ کی ہلاکت کے بعد ملزمان کے بیانات اور پولیس کی تفتیش سے سامنے آنے والے شواہد میں تضادات کی بنا پر ان دونوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اہلکار کے مطابق مقدمے میں نامزد دونوں خواتین کو حراست میں لینے کے بارے میں تاحال فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہkazam
اس مقدمے کی تفتیش کی نگرانی کرنے والے جہلم کے ڈی پی او مجاہد اکبر نے بدھ کو مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے صورتحال سامعہ کے پوسٹ مارٹم کی فورینزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک کی تفتیش سے یہ لگ رہا ہے کہ معاملہ خودکشی یا فطری موت کا نہیں ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ سامعہ نے اپنے سابقہ شوہر شکیل سے باقاعدہ طلاق نہیں لی تھی اور ان کی دوسری شادی میں بھی ان کے گھر والوں کی رضامندی شامل نہیں تھی۔
ایس ایس پی مجاہد اکبر نے کہا کہ بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ سامعہ مفاہمت کی کوشش کے سلسلے میں اپنے والدین کے پاس آئی تھیں جبکہ مقدمے کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ سامعہ کو والد کی بیماری کا بہانہ کر کے بلایا گیا تھا۔







