تقاریر سے حملوں پر اکسایا جا رہا ہے: رینجرز

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ میں تعینات رینجرز نے کہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کی بیرون ملک قیادت کی اشتعال انگیز تقاریر اور بیانات کراچی شہر کے امن کے لیے چیلنج بن گئے ہیں۔
رینجرز کے ترجمان نے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ ان تقاریر سے ایک ’خاص گروہ‘ اور طلبہ کو اکسایا جارہا ہے کہ وہ ریاستی اداروں، صحافتی اداروں، تاجروں اور فنکاروں پر حملے کریں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے عناصر جو کراچی میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں رینجرز ان کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔
’جن افراد کو دھمکیاں دی جاتی ہیں ان کو بھرپور سکیورٹی دی جائیگی اور تمام شاپنگ سینٹرز میڈیا ہاؤسز کو بھی خصوصی سکیورٹی دی جا رہی ہے۔‘
رینجرز نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مشکوک افراد کی گرفتاری کے لیے سکیورٹی اداروں کی مدد کریں اور ایسے عناصر کے اطلاع رینجرز مددگار لائن پر دیں۔
یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے تنظیم کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کو مبینہ طور پر چندہ جمع کرنے کی اجازت نہ ملنے پر رینجرز پر دو روز قبل شدید تنقید کی تھی۔

الطاف حسین نے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایم کیوایم نے اپنی صفوں سے چوروں، بھتہ خوروں، چائنا کٹنگ اور زمینوں پر قبضہ کرنے والے جرائم پیشہ عناصر کو نکالا تو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے بعض افسران نے ان جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کی، انھیں کراچی اور حیدرآباد میں کروڑوں روپے مالیت کے بنگلوں میں ٹھہرایا تاکہ ایم کیوایم کو ختم کیا جا سکے۔‘
الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ٹیلی ویژن کے بعض متعصب اینکر پرسنز بھی ایسے عناصرسے ملے ہوئے ہیں جو کراچی میں امن عامہ کا تذکرہ کرکے یہاں مزید سخت ایکشن کی باتیں کرتے ہیں لیکن انھیں بلوچستان، فاٹا، لاہور، اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں میں پانی و بجلی کی چوری، اغواء کی وارداتیں، خواتین کا قتل اورغریب کسانوں پر مظالم دکھائی نہیں دیتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
الطاف حسین نے کہا کہ ڈی جی رینجرز بلال اکبر نے ایم کیو ایم دشمنی میں ہمارے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کو گزشتہ سال سے زکاۃ، فطرہ اور قربانی کی کھالیں جمع نہیں کرنے دیں جو پاکستان میں ایدھی سینٹر کے بعد سب سے بڑا فلاحی ادارہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب کالعدم جہادی تنظیموں کے لوگ کھلے عام چندہ جمع کر رہے ہیں لیکن ر ینجرز کے اہلکار ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انھیں تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔







