کراچی میں ایم کیو ایم کی ہڑتال کی کال ’بے اثر‘

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کے گھر کا محاصرہ کرنے پر ہڑتال کی کال دی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کے گھر کا محاصرہ کرنے پر ہڑتال کی کال دی گئی تھی
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ہڑتال کی اپیل کو مثبت جواب نہیں ملا جبکہ رینجرز اور پولیس نے شہریوں کو مکمل تحفظ کی یقین دہانی کرائی ہے۔

متحدہ قومی مومنٹ نے رینجرز کی جانب پارٹی کے سینیئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی فاروق ستار کے گھر کا محاصرہ کرنے اور مبینہ طور پر برا سلوک کرنے کے خلاف بدھ کو ہڑتال کی کال دی تھی۔

کراچی میں بدھ کی صبح سے سڑکوں پر پبلک اور نجی ٹرانسپورٹ کی روانی معمول کے مطابق جاری ہے جبکہ بولٹن مارکیٹ، جامع کلاتھ، صدر موبائل مارکیٹ اور ایمپریس مارکیٹ سمیت تمام کاروباری مراکز کھلے ہیں اور سڑکوں پر رینجرز اور پولیس کا گشت جاری ہے۔

ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے کہا ہے کہ عوام بلا خوف معمولات زندگی جاری رکھیں، دکانیں بند کرانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

ایک اعلامیے میں انھوں نے کہا ہے کہ رینجرز ہر قسم کی صورت حال میں شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے تیار ہے، شہری ہڑتال کے اعلانات پر کان نہ دھریں اور آزادی کے ساتھ گاڑیاں سڑکوں پر نکالیں، پیٹرول پمپ معمول کے مطابق کھولے جائیں۔

دوسری جانب آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بھی تمام ایس ایس پیز کو ہدایت کی ہے کہ شہر میں کاروبار اور ٹریفک بند کرانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ افسران سڑکوں پر موجود رہیں اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو متعلقہ افسر ذمہ دار ہوگا۔

یاد رہے کہ نائن زیرو پر چھاپے کے بعد ایم کیو ایم عوامی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرنے سے احتیاط برتی رہی ہے، اس سے قبل چھوٹے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے لیکن عام ہڑتال کی اپیل نہیں کی گئی۔

دریں اثنا ایم کیو ایم کے اراکین نے قومی اسمبلی سے بھی واک آؤٹ کیا ہے۔

پولیس اور رینجرز کے اہلکار سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپولیس اور رینجرز کے اہلکار سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت انھیں مطمئن نہیں کرتی ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

یاد رہے کہ رینجرز نے گذشتہ شب پیر الاھی بخش کالونی میں ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کے گھر کے محاصرہ کر لیا تھا۔

محاصرہ ختم ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اگر ڈی جی رینجرز انھیں فون کر کے کہتے کہ ہمیں ایک اطلاع ملی ہے کہ شاید کوئی مجرم آپ کے ہاں ہو۔ اگر ڈی جی رینجرز یہ کہہ دیتےتو میں اپنے گھر کی تلاشی دے دیتا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم پاکستانی ہیں یا نہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ کیا سینیئر ڈپٹی کنوینر کا بھی اعتبار نہیں اور اب ان پر بھی شک کیا جائے گا کہ وہ مجرموں کو چھپائیں گے؟

اس واقعے کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے جاری کیے جانے والے تحریری بیان میں بتایا گیا کہ کراچی کی پی آئی بی کالونی میں واقع پارٹی کے سینیئر ڈپٹی کنوینر فاروق ستار کی رہائش گاہ پر رینجرز کی بھاری نفری نے دھاوا بولا۔

بیان کے مطابق فاروق ستار کے گھر کے دروازے کو لاتوں اور رائفلوں سے پیٹا گیا۔