31 ماہ میں 848 ٹارگٹ کلرز گرفتار: رینجرز

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سندھ رینجرز نے کہا ہے کہ کراچی میں بلاتفریق کارروائیاں جاری ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ 31 ماہ میں 848 ٹارگٹ کلرز گرفتار کیے گئے ہیں جنھوں نے مبینہ طور پر 7224 افراد کا قتل کیا تھا۔

رینجرز کے ایک اعلامیے کے مطابق کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مختلف سیاسی، مذہبی اور کالعدم جماعتوں کے عسکری سیلز، ٹارگٹ کلرز کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ کراچی میں قیام امن کے لیے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں اس آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس آپریشن کی قیادت وزیر اعلیٰ سندھ کو دی گئی تھی جبکہ رینجرز کے اعلامیے میں اس آپریشن کا کریڈٹ عدلیہ کو دیا گیا ہے۔

رینجرز کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ 5 ستمبر 2013 سے شروع ہونے والے آپریشن میں 848 ٹارگٹ کلرز گرفتار کیے گئے جنھوں نے 7224 افراد کا قتل کیا تھا۔ بیان کے مطابق ان ٹارگٹ کلرز کو قانونی چارہ جوئی کے لیے پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ متحدہ کے کار کن آفتاب حسین کے رینجرز کی تحویل میں ہلاکت پر سندھ حکومت کی جانب سے انکوائری نہ کرنے پر بحث بلاوجہ ہے۔

’آفتاب حسین کی ہلاکت پر ڈی جی رینجرز پہلے دن سے ہی انکوائری کے احکامات دے چکے ہیں جس کے لیے مجھے انھوں نے اعتماد میں لیا تھا۔ جب آفتاب حسین کی فیملی کا آرمی چیف کی انکوائری پر پورا اعتماد ہے تو دوسری کسی انکوائری کے احکامات جاری کرنا مناسب نہیں۔‘

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ڈی جی رینجرز انکوائری کر رہے ہیں اور وہ حکومتِ سندھ کا حصہ ہیں۔