رینجرز سکول کالج پروٹیکشن سسٹم کا قیام

،تصویر کا ذریعہAFP
سندھ رینجرز نے کراچی کے تعلیمی اداروں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے ایک موبائل اپلییکشن سافٹ ویئر سسٹم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس سسٹم کا نام رینجرز سکول کالج پروٹیکشن سسٹم رکھا گیا۔
یہ سسٹم کسی بھی دہشت گرد حملے کی صورت میں بھرپور سکیورٹی اور بر وقت کارروائی کرنے میں معاونت ثابت ہو گا۔
اس بات کا اعلان سندھ رینجز کے عہدے دار کرنل قیصر نے سنیچر کو میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔
کرنل قیصر کے مطابق یہ سسٹم تین حصوں پر مشتمل ہے۔ سب سے پہلا سینٹرل کنٹرول سسٹم ہے جو پاکستان رینجرز سندھ کے ہیڈ آفس میں قائم ہے۔
اس کے علاوہ کراچی میں تین سیکٹر کنٹرول سسٹمز نصب کیے گئے ہیں جو کہ اس سسٹم سے منسلک ہیں۔
اس کے علاوہ 15 مقامات پر ونگ لیول پر کنٹرول سسٹمز بھی نصب کیے گئے ہیں جو فوری رسپانس سسٹمز ہیں۔
سندھ رینجرز کے عہدے دار کے مطابق ان تمام سسٹمز کے اوپر کراچی کے نقشے کو نصب کیا گیا ہے اور اس کے اوپر تعلیمی اداروں، سکول، کالجز اور یونیورسٹیوں کو پلاٹ کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق اس سسٹم میں کسی بھی سکول اور کالج کا نام، اس کے سربراہ کا نام، اس کا ٹیلی فون نمبر اور پتہ ریکارڈ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ رینجز کی تمام موبائلز جو 24 گھنٹے مختلف علاقوں میں ڈیوٹی پر ہوتی ہیں ان کی ٹریکنگ بھی اس سسٹم میں منسلک کر دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موثر کنٹرول کے لیے کراچی کو 60 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر حصے کو ایک کمپنی کی ذمہ داری کے علاقے کے حساب سے ڈسٹری بیوٹ کیا گیا ہے تاکہ ایک بہتر سے بہتر رسپانس حاصل کیا جا سکے۔
کرنل قیصر نے کہا کہ کسی بھی ناگہانی صورتِ حال میں تعلیمی ادارے کے سربراہ ایک ایس ایم ایس جنریٹ کریں وہ ایس ایم ایس اس سسٹم کے اوپر آ جائے گا جس کے بعد وہ ایس ایم ایس اس تمام علاقے کے کمپنی کمانڈرز، سیکٹر کمانڈرز اور ونگ کمانڈرز کے موبائلز میں پہنچ جائے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں وہ ونگ کمانڈر اس ایس ایم ایس کو اپنے متعلقے علاقے میں ڈیوٹی پر موجود موبائل پر ڈائریکٹ کرے گا جس کے ساتھ ہی فوری رسپانس جنریٹ کیا جا سکے گا۔
سندھ رینجرز کے عہدے دار نے کہا یہ تمام سہولیات سینٹرل کنٹرول سسٹم پر بھی دیکھی جا سکتی ہیں اور اگر کسی ہنگامی صورتِ حال میں اضافی نفری کی ضرورت پڑے تو وہ بھی فراہم کی جا سکیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک رینجز سکول، کالج پروٹیکشن سسٹم میں 3,000 سے زائد سکولز کو رجسٹر کیا جا چکا ہے اور باقی سکولوں کو بھی جلد ہی اس کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ایسے سکولز جو اس سسٹم میں رجسٹر نہیں ہوئے ہیں ان کی انتظامیہ سے گذارش ہے کہ وہ اپنے قریبی رینجرز پوسٹ یا چوکی کے پاس جا کر خود کو جلد از جلد رجسٹر کروائیں تاکہ وہ ہمارے سسٹم کا حصہ بن جائیں۔ عوام کی سہولت کے لیے اس سسٹم کا دائرہ کار مذید وسیع کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ سکولوں کی رجسٹریشین کے بعد کراچی کی اہم تنصیبات، شاپنگ مالز، ہسپتالوں اور میڈیا ہاؤسز کو بھی اس سسٹم کا حصہ بنایا جائے گا۔







