’بےنظیر کے قاتلوں کے مدرسے کے لیے انعام کیوں؟‘

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے اکوڑہ خٹک میں واقع مولانا سمیع الحق کے مدرسے کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے پر خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جس مدرسے سے تعلق رکھنے والوں نے سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل میں کردار ادا کیا انھیں یہ انعام کیوں دیا گیا ہے۔‘
خیبر پختونخوا کی حکومت نے بجٹ میں دارالعلوم حقانیہ کے لیے تیس کروڑ روپے کی رقم رکھی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایک جانب تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو حکومت کے خلاف احتجاج میں اپنے ساتھ کنٹینر پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور دوسری جانب وہ ان کی والدہ کے قاتلوں سے تعلق رکھنے والوں کو انعام دے رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کو اس کا جواب دینا ہوگا۔‘
پرویز رشید کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں دارالعلوم حقانیہ کے لیے رقم مختص کرنے پر انتہائی افسوس ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
خیبر پختونخوا کی حکومت پر آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مدرسے کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کرنے پر حکومتی حلقوں کے علاوہ سماجی حلقوں کی جانب سے بھی تنقید کی جا رہی ہے۔
تاہم عمران خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس فیصلے کا دفاع یہ کہتے ہوئے کیا ہے کہ اس سے انتہا پسندی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے بقول ’اس سے مدرسے کے طلبہ کو معاشرے کا حصہ بنانے، مرکزی دھارے میں لانے اور انہیں بنیاد پرستی سے دور رکھنے میں مدد ملے گی۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ جب طالبان نے صوبے میں انسداد پولیو مہم کی مخالفت کی اور پولیو ورکرز کو قتل کیا تو اس وقت مولانا سمیع الحق (دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ) نے انسداد پولیو مہم کی حمایت کی تھی۔
پی ٹی آئی کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے بھی اپنے دور حکومت میں دارالعلوم حقانیہ کی مدد اور حمایت کی تھی، یہاں تک کہ عبدالولی خان نے مدرسے کا دورہ بھی کیا تھا۔







