’دینی مدارس حکومت کے معاون ہیں، ہدف نہیں‘

چوہدری نثار علی خان کے بقول کوئی دینی مدرسہ شدت پسندی کی تربیت دینے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی
،تصویر کا کیپشنچوہدری نثار علی خان کے بقول کوئی دینی مدرسہ شدت پسندی کی تربیت دینے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں قائم دینی مدارس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کے معاون ہیں، ہدف نہیں ہیں۔

جمعے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنی وزارت کی ڈھائی سالہ کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ابھی تک دہشت گردی میں ملوث کسی بھی مدرسے کے بارے میں ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔

<link type="page"><caption> ’مدارس کو رقم دیتی تو حکومت کو حق تھا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150921_right_to_madrassa_funding_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> اسلام آباد: مدرسے پر رینجرز کا چھاپہ، تین افراد گرفتار</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150821_isl_madrasa_arrets_zh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> خیبر پختونخوا:تین ہزار سے زیادہ مدرسے، 770 رجسٹرڈ ہی نہیں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/03/150303_nwfp_madrasa_aziz_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

اُنھوں نے کہا کہ اگر کوئی کسی دینی مدرسے سے پڑھ کر دہشت گردی کرتا ہے تو پھر جدید تعلیم دینے والے اداروں سے پڑھنے والے بھی شدت پسندی میں ملوث رہے ہیں، تو پھر کیا حکومت ان تعلیمی اداروں کے خلاف بھی کارروائی کرے؟

اُنھوں نے کہا کہ جو دینی مدرسہ شدت پسندی کی تربیت دینے میں ملوث پایا گیا تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں مدارس اور وہاں پر زیر تعلیم طالب علموں کے خلاف کارروائی کے بارے میں کہا جارہا ہے تاہم اُن افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جا رہا جنھوں نے ان مدارس کو وفاقی دارالحکومت کے گرین ایریا میں پنپنے کی اجازت دی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان مدارس میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم زیر تعلیم رہے ہیں۔

اسلام آباد میں واقع مدارس میں متعدد مدارس رجسٹرڈ نہیں ہیں اور ان مدارس میں 25 ہزار طالبعلم زیر تعلیم ہیں
،تصویر کا کیپشناسلام آباد میں واقع مدارس میں متعدد مدارس رجسٹرڈ نہیں ہیں اور ان مدارس میں 25 ہزار طالبعلم زیر تعلیم ہیں

چوہدری نثار علی خان نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں لال مسجد آپریشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کو دوبارہ اسی جگہ واپس لانا تھا تو پھر اس فوجی آپریشن کی کیا ضرورت تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں واقع مدارس میں متعدد مدارس رجسٹرڈ نہیں ہیں اور ان مدارس میں 25 ہزار طالبعلم زیر تعلیم ہیں لیکن اُنھیں بندوق کے زور پر شہر سے نہیں نکالا جا سکتا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت پاکستان بھر کے سرکردہ علمائے کرام سے مذاکرات کے بعد مدارس کی رجٹسریشن اوراصلاحات کے بارے میں اتفاق ہوگیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان مدارس میں جدید نصاب بھی پڑھایا جائے گا جس میں انگلش حساب اور جغرافیہ کی بھی تعلیم دی جائے گی۔