طالبان سے مذاکرات کے لیے مولانا سمیع الحق سے رابطے

- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے متوقع وزیر اعظم میاں نواز شریف اور خیبر پختونخوا کے متوقع وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے جمعیت علماء اسلام کے اپنے گروپ کے سربراہ مولانا سمیع الحق سے رابطوں کے بعد جمعیت کے ترجمان نے کہا ہے کہ جب قطر اور فرانس میں طالبان سے مذاکرات ہو سکتے ہیں تو پھر پاکستان میں کیوں نہیں ہو سکتے۔
نواز شریف اور پرویز خٹک نے مولانا سمیع الحق سے امن و امان کے قیام کے لیے طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کے لیے مدد طلب کی ہے۔
جمعیت علماء اسلام کے صوبائی صدر اور جماعت کے مرکزی ترجمان سید یوسف شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ نواز شریف اور پرویز خٹک نے ان رابطوں میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرکے ملک اور صوبے کو در پیش مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے مسائل کے حل کے لیے اس طرح کی کسی خواہش کا اظہار نہیں کیا تھا اس لیے اس بارے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
یوسف شاہ کے مطابق مولانا سمیع الحق کے ہزاروں شاگرد ملک میں اور دیگر ممالک میں موجود ہیں اور مولانا سمیع الحق ان پر اثر رسوخ استعمال کرکے مذاکرات اور مسئلے کو حل کرنے کی بھر پور کوشش کر سکتے ہیں۔
ان سے جب پوچھا کہ کہ آخر یہ سب کچھ کیسے ہو سکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ جب قطر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات ہو سکتے ہیں اور فرانس میں بات چیت ہو سکتی ہے تو پاکستان میں طالبان کے ساتھ رابطہ کیسے نہیں ہو سکتا۔
مولانا سمیع الحق کچھ عرصے سے سیاسی سرگرمیوں میں کوئی زیادہ فعال نظر نہیں آ رہے تھے لیکن گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ کے سربرہ میاں نواز شریف نے مولانا سمیع الحق کو اپنا پیغام بھجوایا جس میں بقول جے یو آئی کے رہنما کے ملک میں امن واماں کے حوالے سے ذکر تھا۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے متوقع وزیر اعلی پرویز خٹک بھی گزشتہ روز مولانا سمیع الحق سے ملاقات کے لیے اپنے وفد کے ہمراہ اکوڑہ خٹک گئے تھے ۔ اس ملاقات میں بھی صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بات چیت ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مولانا سمیع الحق نے ان رابطوں کے بعد ذرائع ابلاغ سے کہا تھا کہ طالبان انھیں باپ کا درجہ دیتے ہیں اور ان کے دارلعلوم سے فارغ التحصیل طالبان افغانستان میں جہاد کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ نواز شریف ہمت کریں اور بیرونی دباؤ میں نہ آئیں تو مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
مولانا سمیع الحق کی عمر لگ بھگ پچہتر برس ہے اور وہ انیس سو اٹھاسی سے دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ ہیں جہاں سے ہزاروں طالبان نے دینی تعلیم حاصل کی ہے ۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی مولانا سمیع الحق کے ساتھ روحانی وابستگی ہے ۔
یاد رہے انتخابات کے اعلان سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے طلب کی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان کے ذریعے طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کےلیے کوششیں کی گئی تھیں لیکن وہ کوششیں کامیاب نہیں ہوئی تھیں۔
جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعلی اکرم خان درانی نے چند روز پہلے کہا تھا کہ علاقے میں جو لوگ لڑ رہے ہیں ان سے مذاکرات کی چابی صرف مولانا فضل الرحمان کے پاس ہے۔







