کپاس کا بحران: کیا حکومت کی آنکھیں کھلیں گی؟

- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
کاشتکاری جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے رانا نذیر کا شوق بھی ہے اور ذریعہ معاش بھی۔
گذشتہ سیزن میں جب انھوں نے کپاس کی کاشت شروع کی تو انھیں توقع تھی کہ وہ معمول کے مطابق فی ایکڑ 30 من سے زائد کپاس حاصل کر لیں گے تاہم جب انھوں نے فصل اٹھانی شروع کی تو ان کی فی ایکڑ پیداوار چار سے پانچ من فی ایکڑ تھی۔
’میں نے فصل کو کھاد بھی پوری دی تھی اور 11 سپرے کروائے تھے لیکن کسی دوائی نے اثر نہیں دکھایا۔ بنولے میں کوئی تیل بھی نہیں تھا اور پھٹی میں گلابی سنڈی تھی اس لیے اس کا وزن نہیں تھا۔ اگر کوئی ٹینڈا کھڑا تھا تو اس میں کیڑے تھے۔‘
پاکستان میں کپاس کی کاشت کے حوالے سے 2015-2016 کو بدترین برسوں میں سے ایک گردانا جارہا ہے کیونکہ اس برس پیداواری ہدف سے تقریباً 34 فیصد کم کپاس کاشت ہوئی۔
فصل خراب ہونے کی پہلی قیمت رانا نذیر کی طرح پنجاب کے کاشتکاروں نے ادا کی اور ناقص کیڑے مار ادویات اور اچھا بیج نہ ہونے کو اس بحران کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

پاکستان کسان اتحاد کےمرکزی صدر خالد محمود کھوکھر کے مطابق گذشتہ برس حکومت کی جانب سے ڈیڑھ کروڑ گانٹھوں کی کاشت کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جس میں سے محض 96 لاکھ گانٹھیں کی کاشت ہو سکیں اور وسیع رقبے پر لگی کپاس کیڑوں کے حملوں اور مختلف بیماریوں کے باعث ضائع ہوگئی۔
خالد محمود کہتے ہیں ’ہمارے پاس اچھا بیج نہیں ہے اور جو بی ٹی بیج گذشتہ کئی سال سے ہمارے ہاں چل رہا ہے وہ چوری کا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے ’اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے کہ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیوٹ ملتان میں کوئی مستقل افسر تعینات نہیں کیا گیا۔ وہاں جو ڈائریکٹربیٹھا ہے وہ تین سال سے عارضی چارج پر ہے۔ اسلام آباد میں کاٹن ریسرچ کو زراعت کے بجائے وزارتِ ٹیکسٹائل کے حوالے کر دیا گیا ہے جہاں پر کام بالکل نہیں ہو رہا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسی صورت حال میں کپاس کی پیداوار کا جو حال ہے وہ خلاف توقع نہیں لیکن فصل کی کٹائی کے چھ ماہ بعد جاری ہونے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کپاس کی قلت سے مجموعی ملکی پیدوار میں اعشاریہ پانچ فیصد کی کمی ہوئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ کپاس درآمد کرنا پڑی۔
معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا ہے ’بجلی، کھاد، ڈیزل ہر چیز ہی بہت مہنگی ہے۔ ایسی صورت حال میں کپاس کی پیداوار میں کمی سے برآمدات میں کمی آئی ہے اور درآمدات بڑھی ہیں لیکن یہ بحران ظاہر کرتا ہے کہ ہماری کوئی ٹیکسٹائل یا کاٹن پالیسی ہے ہی نہیں اور زراعت کے شعبے کی حالت خراب ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اب حکومت کی آنکھیں کھل جائیں۔‘
حالیہ برس کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ کمی سے پورپی منڈیوں تک ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی ڈیوٹی فری رسائی کے تحت ملنے والے آرڈر پورے کرنے کے لیے مل مالکان کو بھارت سے کپاس درآمد کرنا پڑی۔
بھارت میں مختلف سبسڈیز بجلی اور کھاد کی قیمتیں پاکستان کی نسبت کئی گنا کم ہونے کے باعث درآمد کی جانے والی کپاس سستی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کسانوں کو اس پر شدید تحفظات ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر موجودہ صورت حال برقرار رہی تو وہ کپاس کے کاشت ترک کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر کہتے ہیں ’ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے اب بھارت سے کپاس آ رہی ہے۔ جب ڈیوٹی فری کپاس آئے گی تو ہمارا کاشتکار تو مر ہی جائے گا۔ وہ بھارت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ کپاس کی کاشت کے علاقے میں گنے کی کاشت کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کیونکہ شوگر ملیں سیاستدانوں کی ہیں۔‘

کپاس کو ایک نقد آور فصل سمجھا جاتا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اسے مسلسل نظرانداز کیے جانے کے باعث اب بہت سے کاشتکار دوسری فصلوں کو کاشت کرنے پر ترجیح دینے لگے ہیں۔
ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق ’یہ بہت پیچیدہ معاملات ہیں جس میں بہت محنت اور توجہ کی ضرورت ہے لیکن حکومت کی زراعت پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ باتیں تو بڑی بڑی کی جاتی ہیں لیکن کاشتکاروں کو اپنی شنوائی کے لیے سڑکوں پر آنا پڑتا ہے اور ایسے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومتی قابلیت ناکافی ہے۔‘
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے حال ہی میں مختلف محکموں کو تاکید کی ہے کہ وہ کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لیے تجاویز دیں اور بہتر بیج اور کیڑے مار ادویات کی فراہمی کو یقینی بنائیں لیکن ان کی یہ ہدایات کپاس کے حالیہ بحران پر قابو پانے میں کس حد تک مددگار ہوں گے اس کا اندازہ تو چند ماہ بعد اگلی فصل کی کٹائی پر ہی ہو سکے گا۔







