’اپنی زمین اٹھا کر کسی دوسرے ملک نہیں لے جا سکتے‘

احتجاج میں شامل کسانوں نے اپنے ساتھ لائے آلوؤں اور ٹماٹروں کو احتجاجی طور پنجاب اسمبلی کی سامنے سڑک پر پھینک دیا

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشناحتجاج میں شامل کسانوں نے اپنے ساتھ لائے آلوؤں اور ٹماٹروں کو احتجاجی طور پنجاب اسمبلی کی سامنے سڑک پر پھینک دیا
    • مصنف, بیورو رپورٹ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پنجاب کے کسان صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھارت سے ٹیکس فری زرعی اجناس کی بندش، ٹیکس کے خاتمے اور کھاد کی قیمت میں کمی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں ہے۔

پاکستان کسان اتحاد نامی تنظیم کے زیر اہتمام کسانوں نے پنجاب اسمبلی کی عمارت کے سامنے احتجاجاً دھرنا دیا۔

پاکستان کسان اتحاد کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کے مطالبات مان نہیں لیے جاتے۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کسان مجبور ہو کر احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ معاشی طور پر ان کے حالات بہت کمزور ہوچکے ہیں۔

کسانوں کا یہ ایک ہفتے کے دوران دوسرا احتجاج ہے جو معروف شاہرہ مال روڈ پر چیئرنگ کراس پر کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے کسانوں کے ایک دوسرے دھڑے نے اسی طرح کے مطالبات کے حق میں اجتجاج کیا تھا، تاہم حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد اسے ختم کر دیا گیا۔

پیر کو احتجاج کرنے والے کسان عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ان سے پہلے جن کسانوں نے احتجاج کیا ان کو حکومت کی سر پرستی حاصل تھی اور دعوت کے باوجود وہ ان کے ساتھ احتجاج میں شامل نہیں ہوئے۔

احتجاج میں شامل کسانوں نے اپنے ساتھ لائے آلوؤں اور ٹماٹروں کو احتجاجی طور پنجاب اسمبلی کی سامنے سڑک پر پھینک دیا۔ کسان مظاہرین نے مال روڈ پر ٹائر جلائے اور خاردار تاریں لگا کر مال روڈ کے ایک حصے کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کسان مجبور ہو کر احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ معاشی طور پر ان کے حالات بہت کمزور ہوچکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعہدیداروں کا کہنا ہے کہ کسان مجبور ہو کر احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ معاشی طور پر ان کے حالات بہت کمزور ہوچکے ہیں

کسان رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ چاروں صوبوں میں کسانوں کو ایک جیسے حقوق دیے جائیں اور انڈین کاشتکاروں کے برابر سہولیات نہ دینے تک بھارتی زرعی اجناس کی ٹیکس فری درآمد پر پابندی لگائی جائے اور محکمہ مال کے ذریعے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی روکی جائے۔

کسان رہنماؤں نے یہ مطالبہ کیا کہ ان پر قائم مقدمات کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

پاکستان کسان اتحاد کے صوبائی صدر چودھری رضوان اقبال نے بتایا کہ احتجاج میں شامل کسان پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے یہاں پہنچے ہیں تاکہ پولیس کی پکڑ میں نہ آسکیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اوکاڑہ کے قریب پولیس نے ان کے 50 کے قریب ساتھیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

چودھری رضوان نے افسوس کا اظہار کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے حکم دیا تھا کہ گنے کی قمیت کی ادائیگی ایک ماہ میں کی جائے لیکن دو سال میں یہ ادائیگی نہیں ہو سکی۔

کسان رہنماؤں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو ان کے پاس خودکشی کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ اپنی زمین کو اٹھا کر کسی دوسرے ملک نہیں لے جا سکتے۔